شموگہ کرناٹک میں بجرنگ دل کارکن کا قتل۔دفعہ 144 نافذ

تازہ خبر قومی

قتل کو حجاب تنازعہ سے جوڑنے کی مبینہ کوشش
احتجاج کے دوران شرپسندوں نے کئی گاڑیاں  نذر آتش کیں
بنگلور:21؍فروری
(اے ایم این ایس)
کرناٹک کے شموگہ میں اتوار کی رات بجرنگ دل کے ایک کارکن کو چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد پورے علاقہ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی علاقہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ قتل ہونے والے بجرنگ دل کارکن کا نام ہرش ہے۔ اتوار کی رات 9 بجے اسے چاقو سے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔مقتول نوجوان کی شناخت 26 سالہ ہرشا کے نام سے ہوئی ہے۔ اس معاملے میں دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے

ساتھ ہی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پولیس فی الحال اسے حجاب تنازعہ سے جوڑ رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس واقعہ سے کچھ دن پہلے انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر حجاب اور زعفرانی شال کے حوالے سے ایک پوسٹ لکھی تھی۔ ایسے میں پولیس کو شبہ ہے کہ ہرش کے قتل کے پیچھے حجاب تنازعہ ہو سکتا ہے۔ تاہم پولیس نے ابھی تک براہ راست کچھ بھی ظاہر نہیں کیا ہے

یہاں اس واقعہ کے بعد شموگہ میں میں کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے۔ قتل کے خلاف احتجاج میں شرپسندوں نے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ احتیاطی اقدام کے طور پر علاقہ میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہےواضح رہے کہ کرناٹک میں حجاب تنازعہ کو لے کر پہلے سے ہی کشیدگی کا ماحول ہے، ایسے میں بجرنگ دل کے کارکن کی ہلاکت سے علاقہ میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ پولیس نے احتیاط کے طور پر شہر کے اسکول اور کالج دو دن کے لیے بند کر دئیے ہیں۔

حجاب تنازعہ جو کرناٹک کے اُڈپی سے شروع ہوا تھا کئی دوسرے علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ اسکول کالج سے لے کر سڑکوں کے وال پیپر اور سوشل میڈیا تک اس کی حمایت اور خلاف مہم چل رہی ہے۔ حجاب کا تنازعہ جنوری میں اڈوپی گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج میں شروع ہوا تھا، جہاں کچھ طالبات کو حجاب کی وجہ سے کالج کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ جس کے خلاف لڑکیوں نے احتجاج کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جا پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں : جـــــائیداد کے لالــــچ میں بھانجے کے ہاتھوں ماموں کا قتـــــل ، علاقہ میں سنسنی