قتل کو حجاب تنازعہ سے جوڑنے کی مبینہ کوشش
احتجاج کے دوران شرپسندوں نے کئی گاڑیاں نذر آتش کیں
بنگلور:21؍فروری
(اے ایم این ایس)
کرناٹک کے شموگہ میں اتوار کی رات بجرنگ دل کے ایک کارکن کو چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد پورے علاقہ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی علاقہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ قتل ہونے والے بجرنگ دل کارکن کا نام ہرش ہے۔ اتوار کی رات 9 بجے اسے چاقو سے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔مقتول نوجوان کی شناخت 26 سالہ ہرشا کے نام سے ہوئی ہے۔ اس معاملے میں دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے
‘Activists’ Holding Saffron Flags Pelt Stones in Shivamogga.
This was after Harsha was stabbed to death in Shivamogga yesterday. pic.twitter.com/VxxKyI2TTR— Mohammed Zubair (@zoo_bear) February 21, 2022
ساتھ ہی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پولیس فی الحال اسے حجاب تنازعہ سے جوڑ رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس واقعہ سے کچھ دن پہلے انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر حجاب اور زعفرانی شال کے حوالے سے ایک پوسٹ لکھی تھی۔ ایسے میں پولیس کو شبہ ہے کہ ہرش کے قتل کے پیچھے حجاب تنازعہ ہو سکتا ہے۔ تاہم پولیس نے ابھی تک براہ راست کچھ بھی ظاہر نہیں کیا ہے
Karnataka: Murder of Bajrang Dal worker in Shivamogga Section 144 School-college closed What incident has connection to Hijab controversy https://t.co/yxbUQwNRzD
— Divya Creation Studio (@GautamD56730078) February 21, 2022
یہاں اس واقعہ کے بعد شموگہ میں میں کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے۔ قتل کے خلاف احتجاج میں شرپسندوں نے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ احتیاطی اقدام کے طور پر علاقہ میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہےواضح رہے کہ کرناٹک میں حجاب تنازعہ کو لے کر پہلے سے ہی کشیدگی کا ماحول ہے، ایسے میں بجرنگ دل کے کارکن کی ہلاکت سے علاقہ میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ پولیس نے احتیاط کے طور پر شہر کے اسکول اور کالج دو دن کے لیے بند کر دئیے ہیں۔
Shivamogga: Security beefed up after murder of Bajrang Dal worker, schools shut https://t.co/Uajdi5Juyw
— Hindustan Times (@HindustanTimes) February 21, 2022
حجاب تنازعہ جو کرناٹک کے اُڈپی سے شروع ہوا تھا کئی دوسرے علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ اسکول کالج سے لے کر سڑکوں کے وال پیپر اور سوشل میڈیا تک اس کی حمایت اور خلاف مہم چل رہی ہے۔ حجاب کا تنازعہ جنوری میں اڈوپی گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج میں شروع ہوا تھا، جہاں کچھ طالبات کو حجاب کی وجہ سے کالج کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ جس کے خلاف لڑکیوں نے احتجاج کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جا پہنچا۔
बजरंग दल कार्यकर्ता हर्ष की शवयात्रा के दौरान कर्नाटक के #Shimoga में दंगे शुरू, दुकानों और घरों को जलाया जा रहा है । मुस्लिम घरों को टारगेट किया जा रहा। हिंसा को कंट्रोल करने के लिए पुलिस ने आंसू गैस के गोले दागे है । pic.twitter.com/TPWZLc9xxn
— Millat Times (@Millat_Times) February 21, 2022
یہ بھی پڑھیں : جـــــائیداد کے لالــــچ میں بھانجے کے ہاتھوں ماموں کا قتـــــل ، علاقہ میں سنسنی