مدرسہ ضیاء القرآن کیرانہ میں منعقدہ اجلاس سے مولانا حکیم عبداللہ مغیثی کا خطاب
دیوبند، یکم؍ مارچ
(رضوان سلمانی)
مدرسہ ضیاء القرآن محلہ آل درمیان کیرانہ شاملی میں سالانہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ اجلاس ایم پی والی مسجد میں منعقد ہوا جس کی سرپرستی الحاج صوفی معین الدین نے کی اور صدارت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی قومی صدر آل انڈیا ملی کونسل نے کی ، جب کہ مہمانان خصوصی مولانا محمد سلمان بجنوری استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند، مولانا محمد عاقل قاسمی مہتمم مدرسہ بدرالعلوم گھڑی دولت، مولانا ظہور قاسمی صدر جمعیۃ علماء ہند ضلع سہارنپور، مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی ضلع صدر ملی کونسل سہارن پور،مولانامحمد جعفر مظاھر علوم مولانامحمداسرائیل شریک رہے۔
اس موقع پر مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ دنیا و مافیہا کو فنا ہے بقا صرف اللہ کی ذات کو ہے اور اسی طریقے سے اللہ کی ذات اور اسکے حقوق سے منسلک روزہ تلاوت، قرآن پاک ایسی عبادات ہیں جن کو بقا ہے،یہ انسان کے دنیا میں بھی کام آتی ہے اور مرنے کے بعد بھی اس کا بھرپور ساتھ دیتی ہیں۔ مولانا نے کہا کہ صوم وصلوٰۃ کی پابندی مسلمان کی سب سے بڑی علامت اور اللہ کے نزدیک سب سے اہم اور محبوب عبادت نماز ہی ہے ۔
اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کو لازم پکڑیں کیو ںکہ احادیث میں نماز کو کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز بتایا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اصلاح معاشرہ کے عنوان پر بھی گفتگو کرتے ہوئے اور لوگوں کو تلقین کی کہ وہ بیجا رسومات سے بچیں اور اسراف سے پرہیز کریں اور اپنا خون پسینہ ایک کرکے کمائی ہوئی اس حلال دولت کو اتنی آسانی سے برباد نہ کریں بلکہ قوم و ملت کی فلاح کے لئے غور و فکر کریں اور اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دیں، دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضامن ہے۔
اصلاح معاشرہ پر زور دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ اخلاق ومعاملات کے اثرات معاشرہ پر بہت جلد مرتب ہوتے ہیں ۔ جھوٹ ، چوری، لالچ، حرص وہوس ، ایک دوسرے پر ظلم وزیادتی ، قتل وغارت گری، الزام تراشی، ناجائز طور طریقوں سے کسب معاش وغیرہ امور ایک صحت مند معاشرہ کے لئے ناسور ہیں ، ہمیں دینی تعلیم کی روشنی میں حکمت ومصلحت کے ساتھ ان فاسد امور سے اپنے آپ کو اور لوگوں کو باز رکھنا ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا سلمان بجنوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ علم انسان کی زینت ہے اور جہالت زندوں کی موت ہے اس لئے تعلیم ہماری مذہبی اور سماجی زندگی کا اہم حصہ ہے۔
اس لئے تعلیم سے صرفِ نظر بالکل درست نہیں ہے۔ انہوں نے مسلم نوجوانوں کے اندر پیدا ہورہی بے راہ روی اور مسلم بچیوں میں پھیلتے ہوئے ارتداد کے اسباب اور ان کے حل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلمان اپنے بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کی فکر کریں اور اپنے اوراپنی نسلوں کے دین وایمان کے تحفظ کے لئے جدوجہد کریں ۔
انہو ںنے بڑوں کی رہنمائی میں آگے بڑھنے اور نسلوں کی حفاظت کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ایک ایسا زیور ہے کہ جس سے انسان اچھائی اور برائی کو سمجھ سکتا ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو دینی تعلیم کی طرف راغب کرنا ہوگا کیوں کہ ہمارے اندر بہت سی رسومات ایسی پیدا ہوگئی ہیں جس کا نقصان دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی ہے۔
انہوں نے اپنے گھروں اور معاشرتی نظام کو اچھا بنانے پر زور دیا۔ اس موقع پر مدرسہ سے حفظ مکمل کرنے والے 14بچوں کی دستار بندی علماء کے ہاتھوں عمل میں آئی۔
یہ اجلاس مولانا محمد عمر مدرسہ ضیاء القرآن امام و خطیب مسجد ایم پی والی کیرانہ کی زیر نگرانی منعقد ہوا جس میں علاقے کے معززین علماء ائمہ اور عوام الناس نے بڑی تعداد میں شرکت کی اجلاس کا اختتام مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی کی پر سوز دعاء پر ہوا۔شرکاء میں، مولانا محفوظ، مولانا نواب، مولانا عارف رشیدی،حاجی انور، مولانا واصف رشیدی، مولانا کوثر، ماسٹر شمع،وغیرہ اساتذہ و طلباء موجود رہے