ہزار پرشانت کشور بھی آ کر کے سی آر کی نیا کو نہیں بچاسکیں گے
تلنگانہ میں بہاریوں کا غلبہ۔ تلنگانہ کانگریس صدر رریونت ریڈی کا ریمارک
حیدرآباد:2؍مارچ
(زین نیوز)
پنجاب کے وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چنی کے بہاریوں کے بارے میں کئے گئے تبصرے پر سیاسی ابال ابھی تھما بھی نہ تھا کہ تلنگانہ کانگریس صدر ریونت ریڈی نے بہار کے بارے میں ایک متنازعہ ریمارک کیا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کا ڈی این اے بہاری ہوگیا ہے
جس کے زیر اثر کے سی ار نے تلنگانہ کے آئی اے ایس و آئی پی ایس عہدیداروں کو نظر انداز کر تے ہوئے بہار سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو نہ صر ف اہم عہدے سونپے ہیں بلکہ انہیں ایک سے زائد محکموں کی ذمہ داری دی ہے۔ اس لئے وہ یہ چاہتے ہیں کہ کے سی ار کے تلنگانہ کے تئیں لگا ؤ کا پتہ چلانے کیلئے اس سلسلہ میں قرطاس ابیض جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے
سکندرآباد پارلیمانی حلقہ میں پارٹی کی رکنیت سازی مہم کے جائزہ اجلاس میں شرکت کے بعد خطاب کرتے ہوئے مسٹر اے رپونت ریڈی نے ٹی آرایس حکومت کے انداز کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور چیف منسٹر کے سی آر پر کئی ایک الزامات عائد کئے ۔
انہوں نے کہا کہ کے سی آر کانگریس پارٹی سے خائف ہوکر بہار سے تعلق رکھنے والے پرشانت کشور ( پی کے) کی خدمات حاصل کررہے ہیں اور انہیں ریاست کے لئے مدعو کیا۔ مسٹر ریونت ریڈی نے الزام لگایا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ آندھراپردیش کے گتہ داروں کے ساتھ ساز باز کر چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ ریاست کے تقریباگتے (ٹنڈرس) انہی کومل رہے ہیں۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ بہاری افسر ریاست چلا رہے ہیں۔ چیف سکریٹری سومیش کمار اور انچارج ڈی جی پی انجنی کمار‘ اپیشل چیف سکریٹری میونسپل ایڈمنسٹریشن اروند کمار، سکریٹری محکمہ تعلیمات سندیپ کمار سلطانیہ سمیت تقریباً عہدیداروں کا تعلق بہار سے ہے۔
جبکہ مقامی آئی اے ایس و آئی ٹی حوالے کئے ہیں اس کی تفصیلات کو منظر عام پر لایا جائے ۔ مسٹر یونٹ ریڈی نے سخت لہجہ میں کہا کہ نہ صرف سینکڑوں پرشانت کشور بلکہ ہزار پرشانت کشور بھی آ کر کے سی آر کی نیا کو نہیں بچاسکیں گے
صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر اے ریونت ریڈی نے ریمارک کیا کہ چیف مسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اگر عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں و تیقنات پر عمل کرتے تو پھر تیسری مرتبہ بھی نئی ریاست کے وہی چیف منسٹر رہتے ۔
انہوں نے طنزکیا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ کی عزت نفس کو ریاست بہار کے ایک شخص کے پاس رہن رکھ دیا ہے۔ مسٹر یونٹ ریڈی نے سخت لہجہ میں کہا کہ نہ صرف سینکڑوں پرشانت کشور بلکہ ہزار پرشانت کشور بھی آ کر کے سی آر کی نیا کو نہیں بچاسکیں گے
انہوں نے تلنگانہ کے آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران سے اپنے عہدوں کو چھوڑنے کی اپیل کی اور کہاکہ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ بہار سے آنے والے پرشانت کشور کی مدد لینے کا فیصلے کیا ہے۔ کانگریس لیڈرنے تلنگانہ کے سی ایم کے چندر شیکھر راؤ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا ڈی این اے بہاری ہوگیا ہے۔
ان کے آباو آجداد بہار سے جنوبی ریاست میں آباد ہوئے تھے۔ریونت ریڈی کے اس بیان پر بہار کے این ڈی اے لیڈروں نے سخت اعتراض کیا ہے۔ ساتھ ہی کانگریس کی حلیف آر جے ڈی نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
آر جے ڈی کے ترجمان مرتیونجے تیواری نے ریونت ریڈی سے غیر مشروط معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم بہار کانگریس لیڈروں نے اپنی پارٹی لیڈر کا دفاع کیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی ورکنگ پریسڈنٹ سمیر کمار سنگھ نے کہا کہ ریڈی نے بہار کو نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کی بلکہ کے سی آر ان کا اصل نشانہ تھے۔