امت محمدیہ کی کامیابی کی بنیاد اتحاد و اتفاق میں ہی پوشیدہ :مولانا عبداللہ مغیثی

تازہ خبر قومی

جامعہ احمد العلوم خانپور گنگوہ میں سالانہ اجلاس کا انعقاد
دیوبند، 3؍ مارچ
(رضوان سلمانی)
جامعہ احمد العلوم خانپور گنگوہ کا سالانہ اجلاس زیر صدارت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی قومی صدر آل انڈیا ملی کونسل منعقد ہوا جس میں بطور مہمان خصوصی مولانا محمد عاقل قاسمی، مولانا ظہور قاسمی، مفتی محمد احسان قاسمی صدر مفتی دارالعلوم وقف دیوبند، مولانا سید حبیب اللہ مدنی، مفتی محمد ساجد کھجناوری اور قاری محمد طالب، شریک رہے۔

اس موقع پر مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی مہتمم جامعہ رحمت گھگھرولی نے نعت پاک پیش کی ۔ اس دوران مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی نے اپنے صدارتی خطاب میںمدارس کی اہمیت و افادیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے جس تمنا کے ساتھ ان مدارس کی داغ بیل ڈالی، انھیں میں احمد العلوم خانپور بھی ملت کے لیے ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے جسکا فیض ملک کے کونے کونے میں پہنچ رہا ہے اسکی مثال آپ نے ملک میں مشہور گیا کے برگد سے پیش کی اور کہا کہ آج کا جلسہ اور عوام کا جم غفیر اس بات کی عکاسی کررہا ہے۔

اسی طرح انہوں نے اتحاد و اتفاق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امت محمدیہ کی کامیابی کی بنیاد لفظ اتحاد و اتفاق میں ہی پوشیدہ ہے جب جب امت نے کسی بھی موقع پر اتحاد کا ثبوت پیش کیا تو زمانے میں انقلاب کے نمایاں اثرات پیدا ہوئے اور اس کے برخلاف جب اسی بھائی چارے کو درکنار کیا تو شیطانی چالوں اور مکر و فریب اور دنیا کے متوالوں نے امت پر یلغار کی اور ہم حالات سے دوچار ہوئے اور ہماری اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر فسطائی طاقتیں مضبوط ہوئیں،

انہوں نے اس کی مثال عرب کے مشہور جانور اونٹ سے کی اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سواری کرنے کی وجہ سے ایک جانور میں اتنا اتفاق اور حضور کا اتنا مطیع و فرمانبردار ہوا کہ سو اونٹ ایک جگہ کھڑے کردیے جائیں اور ان کی نکیل ایک طفل مکتب کو دے دی جائے تو تمام اوٹ ایک ہی لائن میں چلیں گے اور اس کے برعکس کوئی بھی جانور ایسا نہیں ہے تو اس لحاظ سے اس امت پر بھی ضروری ہے کہ اپنے نبی کی بات پر عمل کرے اور اپنی صفوں میں اجتماعیت پیدا کرے۔

انہوں نے اصلاح معاشرے پر توجہ دلائی اور کہا کہ اب سے پہلے اس خطے میں اور ان زمینوں میں پیداوار کی شرح بہت کم تھی جہاں آج اللہ پاک نے اپنے فضل و کرم سے فراوانی کے دروازے کھول دئیے ہیں اور دولت کی بھرمار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے بزرگوں کی امانت ہے اس کو سنبھال کر رکھنا چاہیے اور دینی و دنیاوی ضرورت میں شریعت کے مطابق صرف کرنا چاہیے آج کے نوجوانوں سے خصوصی طور پر تاکید کی کہ وہ نشے اور بری لت سے دور رہیں کیونکہ اس سے دین اور دنیا دونوں برباد ہوتی ہے۔

پروگرام کے آخر میں جامعہ کے شعبہ حفظ سے فارغ 12 حفاظ اور شعبہ تجوید و قرات سے فارغ 6 طلباء کی دستار بندی ہوئی اور صدر محترم نے آسان و مسنون نکاح مہم کے تحت ایک جوڑے کا مسنون طریقے سے نکاح پڑھایا۔ پروگرام کی نظامت مفتی محمد صابر قاسمی شیخ الحدیث جامعہ احمدالعلوم نے کی، جامعہ کے بجٹ کی تفصیل اور مہمانوں کا خیر مقدم جامعہ ہذا کے مہتمم مفتی محمد عمران قاسمی نے پیش کیا۔

اس اجلاس میں علاقے اور دور دراز سے ہزاروں کی تعداد میں عوام الناس کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ خصوصی طور پر مولانا نواب،مولانا شمشیر الحسنی مولانا محمد عارف رشیدی، مولانا آصف رشیدی، مولانا اسجد مفتاحی،مولانا دلشاد، قاری ساجد ، قاری اعظم ،حافظ یامین، مولانا انتظار ، مولانا مستقیم رشیدی، مفتی منسوب، مولانااسجد،مولانا الیاس، ڈاکٹر واصل، قاری شوقین چوہدری، ناظم بھائی، قاری سہراب کے علاوہ جامعہ کے اساتذہ و طلبہ موجود رہے۔