عوام میںخوف و ہراس ۔ کیف کا جنگ بندی پر زور
نئی دہلی : 4؍مارچ
(اے ایم این ایس)
یوکرین کے شہروں پر روس کے حملے میں اضافہ کے ساتھ، فورسز نے جمعہ کے روز یوکرین میں توانائی پیدا کرنے والے ایک اہم شہر کو یورپ کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ پر گولہ باری سے نشانہ بنایا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا آج نواں دن ہے۔ خبر رساں ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا رہا ہے
Russian army is firing from all sides upon Zaporizhzhia NPP, the largest nuclear power plant in Europe. Fire has already broke out. If it blows up, it will be 10 times larger than Chornobyl! Russians must IMMEDIATELY cease the fire, allow firefighters, establish a security zone!
— Dmytro Kuleba (@DmytroKuleba) March 4, 2022
یہ خبر جوخوف و ہراس پھیلانے والی ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے یوکرین کے ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے بڑی خبر دی ہے۔ خبر رساں ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا رہا ہے۔ یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے روسی فوجیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آگ لگنے کے بعد یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ پر حملے بند کر دیں۔
#WATCH | Adviser to the Head of the Office of President of Ukraine Volodymyr Zelenskyy tweets a video of "Zaporizhzhia NPP under fire…"#RussiaUkraine pic.twitter.com/R564tmQ4vs
— ANI (@ANI) March 4, 2022
وس نے یوکرین کے صوبے زاپوریزہیا اوبلاست کے شہر اینرودر میں ایک بڑا حملہ کیا ہے۔ یوکرائنی حکام کا دعویٰ ہے کہ حملے کے بعد یورپ کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور سٹیشن Zaporizhia سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے جا رہے ہیں۔
یوکرین کے صدر کے دفتر کے سربراہ کے مشیر وولوڈیمیر زیلنسکی نےاپنے ٹویٹر ہینڈل سے ایک ویڈیو شیئر کی ہے کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ زپوریزہیا این پی پی‘‘آگ کی لپیٹ میں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے زاپوریزہیا پاور پلانٹ پر بمباری کے درمیان زیلنسکی سے فون پر بات کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاں سے یہ حملہ ہوا ہے وہاں سے جوہری ری ایکٹر بہت قریب ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں کے درمیان فوجی، اقتصادی اور انسانی امداد پر بھی بات چیت ہوئی ہے.بائیڈن نے روس پر زور دیا کہ وہ پلانٹ پر فائرنگ بند کرے اور اس جگہ پر ہنگامی خدمات کی اجازت دے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرین پر بڑے الزامات لگا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یوکرین غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا رہا ہے۔ یوکرین کی فوج غیر ملکیوں کو یرغمال بنانے اور انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کرنے میں مصروف ہے۔

پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ 3000 ہندوستانیوں کو یرغمال بنایا گیا تھا، جنہیں رہا کرانے کا کام روسی فوج نے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چین کے عوام کو بھی یوکرین نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ پیوٹن نے یہ باتیں سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد کہیں۔