ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ہے ثاقی
طلباء مکاتب قرآنیہ کاماریڈی کے مابین کامیاب مسابقہ القران کا انعقاد، طلباء میں انعامات کی تقسیم
حافظ محمد فہیم الدین منیری صدر جمعیۃ علماء کاماریڈی ومہمان علماء کرام کے حوصلہ افزوں خطابات
کاما ریڈی
(پریس نوٹ)
ذرہ نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ثاقی محمد فیروز الدین پریس سکریٹری کی اطلاع کے مطابق مسجد نور اندرانگر کالونی کاماریڈی میں خادم ملت حافظ محمد فہیم الدین منیری صدر جمعیۃ علماء کاماریڈی کی صدارت میں مسابقۃ القرآن برائے مکاتب قرآنیہ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا، جس میں شہر کاماریڈی کے علاوہ دیہات کے مکاتب کے طلباء نے بھی حصہ لیا اور بہترین مظاہرہ پیش کیا،

حافظ عبدالرحمن حلیمی ناظم مسابقۃ کی نگرانی میں حیدرآباد کے جید علماء ومفتیان کرام کی ٹیم نے حکم اور جج کے فرائض انجام دیئے، اسی مناسبت سے بعد نماز ظہر منعقدہ عظمت قرآن کے جلسہ سے مہمان عالم دین مفتی شاہ عالم صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج امت قرآن اور تلاوت قرآن سے دور ہوگئی ہے، اس امت میں ایسے مسابقہ کے نام سے بار بار مجلس منعقد کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے،
نیز مسابقہ کے ذمہ داران کی اس عظیم خدمت کو خوب سراہا اور کہا کہ یہ انعقاد مسابقہ اس بات کی دلیل ہے کہ اب بھی ہماری قرآن سے نسبت قوی ہے، اسی لئے اس مسابقۃ کے ذریعے قرآن کی عظمت امت کے دلوں میں بٹھایا ہے، قرآن سے تعلق رکھنے والوں کو پیدا کرنا اس مسابقہ کا پیش خیمہ ہے، الحاج سید عظمت علی سکریٹری نے کہا کہ ان معصوم بچوں کے زبان سے قرآن اور اذان کے کلمات کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں، بہت مبارکباد کے قابل ہیں ان معصوم بچوں کے ماں باپ جنہوں نے اپنے بچوں کو مکتب کا پابند بنا کر دین کی کیسی عظیم محنت کی ہے،
اس مکتب کی تعلیم سے نسلوں میں دین باقی رہتا ہے، ترجمان مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی محترم مفتی خواجہ شریف مظاہری نے کہا کہ ایسے تعلیمی مظاہرے اور مسابقوں سے طلباء کی ہمت اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جو انہیں حصول علم میں معاون ثابت ہوتی ہے، ان میں دینی شغف پیدا ہوتا ہے، معلمین مکاتب قرآنیہ سے خصوصی اپیل کرتے کہا کہ بچے جو قیمتی وقت اپنی زندگی کا نکال کر مکتب پہنچتے ہیں ان کے وقت کو کارآمد بنائیں، انکے تعلیمی معیار کو مستحکم کریں، ورنہ کل قیامت میں اس وقت کے بارے میں سوال ہوگا
اس سوال کے جواب کی تیاری کے لئے خوب محنت کریں، خود بھی تجوید کو حاصل کریں اور اس کو رائج کرنے کی فکر کریں، تجوید کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا انتہائی ضروری ہے، فقہاء نے لکھا ہے کہ تجوید کا حاصل کرنا فرض کفایہ ہے اور تجوید سے قرآن پڑھنا فرض عین ہے، اللہ نے قرآن کی تلاوت میں تلاوت کا حق ادا کرنے کا حکم دیا ہے،
کیونکہ اللہ نے قرآن کو نازل کیا تو اس کے پڑھنے کا ڈھنگ اور سلیقہ بھی بتایا ہے، محمد عزیز الدین عزیز صدر جمعیۃ حلقہ اسلام پورہ کاماریڈی نے کہا کہ اجتماعی کاموں سے اللہ خوش ہوتا ہے برکتیں نازل ہوتی ہیں، الحمدللہ ذمہ داران و جملہ ٹرسٹیان مجلس تحفظ ختم نبوت پورے استقلال اور مستعدی کے ساتھ کاماریڈی اور اطراف واکناف میں منظم مکاتب کے ذریعے دینی علمی سماجی و فلاحی کاموں کو انجام دے رہے ہیں،
آخیر میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے خادم ملت حافظ محمد فہیم الدین منیری دامت برکاتہم نے کہا کہ قرآن ایک سچی کتاب ہے جو خدا کا پیغام بندوں کے نام ہے، اللہ نے قرآن کو آسان تر کرکے بندوں تک پہنچایا ہے، اس کے پڑھنے سے ایمان میں ترقی ملتی ہے، قرآن مجید کے اندر کہا ہے کہ مومن لوگ جب قرآن مجید پڑھتے ہیں تو پھر ان کا ایمان ترقی کی طرف گامزن ہوتا ہے، قرآن کا پڑھنا باعث برکت ہے، قرآن مجید کل قیامت میں اپنے پڑھنے والے کا سفارشی بنے گا،
یہ بات حدیث مبارکہ سے ثابت ہے، موجودہ دور میں قرآن کی تعلیم کے بجائے پاکیزہ ماحول فراہم کرنے کے بجائے معصوم بچوں کے دل و دماغ پر موجودہ شیطانی خیالات کے ذریعے دجالی ہدایات کے انجکشن لگ رہے ہیں، یاد رکھیں بچوں کو چھوٹی عمر میں جو سکھایا جاتا ہے، ساری عمر اسی چیز کی چھاپ ان کی عملی زندگی میں آتی ہے، آج نئی نسل کی ذہنی و اخلاقی نشونما اسلامی تعلیمات پر ہونا از حد ضروری ہے، اور تب ہی ممکن ہے جب مکاتب کا جال بچھایا جائے،

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تین چیزیں لوگوں میں ہونا ضروری ہے، ایک حاکم اور امیر ورنہ لوگ برسرپیکار ہوں گے، دوسرے قرآن مجید کی خرید وفروخت ورنہ کتاب اللہ کا پڑھنا اور پڑھانا بند ہوجائے گا، حضورﷺ نے فرمایا اپنے بچوں کو تین باتیں سکھاؤ اپنے نبی کی محبت، اہل بیت کی محبت اور قرآن کی تلاوت، اخیر میں کہا کہ ہمارے اکابر نے زور دیا ہے کہ موجودہ دور میں مکاتب کا قیام فرض عین ہے، اس سے ارتداد کی لہر کمزور پڑتی ہے، وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے عزم کریں کہ جہاں مکتب نہیں ہے فی الفور وہاں مکتب شروع کریں گے،
جہاں قائم ہے اس کے استحکام پر زور دیں گے، تعلیمی معیار میں تبدیلی لائیں گے، امت کے نونہالوں کے ایمان کی فکر کریں گے، اور یہ مکتب ہی کی تعلیم سے ممکن ہے کہ دینیات اور دینی ضروری معلومات اس سے دینی تربیت میں معاونت فراہم ہوتی ہے، دینی علوم کا شوق پیدا ہوتا ہے، قرآن کے ساتھ احادیث رسول اور سنت رسولﷺ سے محبت پیدا ہوتی ہے، جس سے انسانیت کی خدمت کرنا آسان ہوتا ہے، اچھے اخلاق، عمدہ صفات، پاکیزہ ماحول فراہم ہوتا ہے، زندگی گزارنے کا سلیقہ آتا ہے،

اس موقع پر ذمہ داران مولانا منظور مظاہری منتظم مجلس، مولانا نظر الحق قاسمی نگران مجلس، ومعلمین مکاتب و اساتذۂ مدرسہ مصباح الہدیٰ، حافظ محمد عبدالواجدعلی خان حلیمی نائب ناظم، مدرسہ حافظ محمد خواجہ یاسین حلیمی امام وخطیب مسجد محمود اشرف، حافظ مجاہد منہاج معلم مدرسہ مصباح الہدیٰ، حافظ محمد تقی الدین منیری جنرل سکریٹری سٹی جمعیۃ علماء کاماریڈی، محمد حمزہ، مصباح بھائی، محمد افضل، عبدالماجد علی خان، اولیاء طلباء ومصلیان مسجد نور کے علاوہ ودیگر موجود تھے، حضرت جناب الحاج محمد انور صاحب دامت برکاتہم ناظم مدرسہ دارالعلوم حلیمیہ نظام پیٹ نے مسابقہ کی سرپرستی فرمائی،