Farooq Abdullah=1

کشمیر فائلز پر پی ایم مودی کا ہٹلر سے موازنہ

تازہ خبر قومی

کشمیری پنڈتوں کی بے دخلی کے لئے اس وقت دہلی میں بیٹھی حکومت ذمہ دار
1990 میں جو کچھ ہوا وہ ایک سازش تھی
کشمیریوں کے دلوں کو جوڑے بغیر امن مشکل ۔فاروق عبداللہ
نئی دہلی :22؍مارچ
(اے ایم این ایس)
کشمیری پنڈتوں کے مسئلہ پر بنی فلم کشمیر فائلز ان دنوں سب سے زیادہ سرخیوں میں ہے۔ حالیہ تنازعہ کے درمیان نیشنل کانفرنس لیڈر فاروق عبداللہ نے پہلی بار اس معاملے پر بیان دیا ہے۔ ایک خانگی چیانل کو دئیے گئے انٹرویو میں فاروق نے کہا کہ وہ بہت خراب وقت تھا

جب کشمیری پنڈٹ بے دخل ہوئے اور کشمیری پنڈتو ں پر جو مصیبتیں آئیں ہیں ہمار ا دل آج تک اس پر رو رہا ہے۔کشمیری پنڈتوں کےبے دخلی کی وجہ اس وقت دہلی میں بیٹھی حکومت تھی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اس خروج کے ذمہ دار پائے جائیں تو انہیں جہاں چاہیں پھانسی دے دیں۔

فاروق عبداللہ نے آ ج تک چیانل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا – ہر کشمیری چاہتا ہے کہ کشمیری پنڈت واپس آئیں۔ 1990 میں جو کچھ ہوا وہ ایک سازش تھی۔ ایک کمیشن بیٹھائیےاس میں پتہ چلے گا کہ کون کون ذمہ دار ہیں۔کشمیری پنڈتوں کو سازش کے تحت بھگا دیا گیا۔ جو لوگ اس وقت دہلی میں بیٹھے تھے وہ اس کے ذمہ دار ہیں۔ میرا دل آج بھی ان بھائیوں کے لیے رو رہا ہے۔

فاروق نے کشمیر فائلز پر پی ایم مودی کا ہٹلر سے موازنہ کیا، عبداللہ نے کہا یہ فلم دل نہیں جوڑ رہی، توڑ رہی ہے۔ ہم اس آگ کو بجھا دیں گے ورنہ یہ شعلہ کی طرح پورے ملک کو جلا دے گی۔

میں وزیر اعظم سے کہوں گا کہ ایسی باتیں نہ کریں جس ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تلخیاں اور بڑ ھ جائیں اور ملک ہٹلر کے دور میں جرمنی جیسا نظر آئے۔ کشمیریوں کے دلوں کو جوڑے بغیر امن مشکل ہے۔

فاروق عبداللہ نے مزید کہا- 370 کو کتنے سال گزر گئے، کیا دہشت گردی ختم ہوئی؟ کیا بم دھماکے رک گئے؟ آپ کے یہاں اتنی فوج ہے، وہ اسے کیوں نہیں روک سکے۔ جموں و کشمیر میں اب بھی لوگ مارے جا رہے ہیں۔

بی جے پی 8؍سال سے اقتدار میں ہے کیا کشمیری پنڈت واپس لائے ہیں انہوں نے ؟مودی حکومت نے کشمیری پنڈتوں کے لئے کیا کیاہے وہ کشمیری پنڈتوں سے پوچھنا چاہیے‘ اگر فاروق عبداللہ کہتا ہے تو کہیں کہ فاروق عبداللہ پروپگنڈہ کررہا ہے ۔ خود بی جے پی حکومت سے پوچھئے کہ اس نے کشمیری پنڈتوں کے لئے کیا کیا ہے؟انکے لئے کیا ہمدردی ہے وہ آج تک گھر نہیں آئے۔

آج بھی کشمیری پنڈتوں کے 800 خاندان یہاں رہ رہے ہیں، کیا انہیں کسی نے چھوا؟ پلوامہ کے بنشی لال نے بیان دیا ہے کہ میں یہیں رہا، میں نہیں گیا، میں یہاں بہت خوش ہوں۔ بات چیت میں فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

آخر میں فاروق نے وادی میں ہندو وزیراعلیٰ بنائے جانے پر کہا – اگر ہندو وزیراعلیٰ ایمانداری سے منتخب ہونے کے بعد آتا ہے تو کوئی کشمیری انگلی نہیں اٹھائے گا، اگر وہ بے ایمانی سے آیا تو ہم قبول نہیں کریں گے۔