پیراسیٹامول سمیت 800 ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ
نئی دہلی : 26؍مارچ
( اے ایم این ایس)
ملک میں پیٹرول، ڈیزل، سی این جی، پی این جی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ سے خوراک، پانی اور ٹرانسپورٹیشن بھاری پڑ رہی ہےاب عوام آدمی پر اور ایک مار پڑنے جاری ہے۔عام آدمی کو بخار کو کم کرنا بھی یکم اپریل 2022 سے مہنگا ہو جائے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مرکز کی مودی حکومت نے 1 اپریل سے 800 سے زیادہ ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے جا رہی ہے، جن میں پیراسیٹامول بھی شامل ہے، جو بخار کو کم کرنے کی مشہور دوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ادویات کی قیمتوں میں کم از کم 10.7 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے پیراسیٹامول سمیت 800 سے زائد ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا جن میں بخار، امراض قلب، ہائی بلڈ پریشر، جلد کے امراض اور خون کی کمی کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات بھی شامل ہیں۔ اگلے مہینے سے درد کش ادویات اور اینٹی بائیوٹکس جیسی ضروری ادویات جیسے پیراسیٹامول فینیٹوئن سوڈیم، میٹرو نیڈازول مہنگی ہونا شروع ہو جائیں گی۔
Prices of more than 800 essential medicines including #paracetamol, antibiotics such as #azithromycin and folic acid likely to rise steeply from April 1. Read our #EXCLUSIVE here@binoy_prabhakar @chandrarsrikant https://t.co/4RHjfXOoNq
— Sumi Dutta (@SumiSukanya) March 3, 2022
اطلاعات کے مطابق مرکز کی مودی حکومت نے طے شدہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ نیشنل فارما پرائسنگ اتھارٹی (این پی پی اے) کے مطابق ملک میں ہول سیل مہنگائی کی بنیاد پر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ملک میں کورونا کی وبا کے آنے کے بعد ہی فارما انڈسٹری کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ حکومت کے فیصلے کے بعد ادویات کی قیمتوں میں کم از کم 10.7 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ضروری ادویات کو شیڈول ادویات کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے اور ان کی قیمتوں کو حکومت کنٹرول کرتی ہے۔ حکومت کی اجازت کے بغیر ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ جن ادویات کی قیمتیں بڑھنے جا رہی ہیں ان میں وہ دوائیں بھی شامل ہیں جو کورونا کی درمیانی سے شدید علامات والے مریضوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں۔
