مفتی سلمان منصورپوری و مولاناامیر اللہ خان و دیگر علماء کا خطاب
رپورٹ : عبدالقیوم شاکر القاسمی
استادعربی ادارہ مظہر العلوم نظام آباد تلنگانہ
9505057866
اس وقت دنیا ایک نہایت ہی پرآشوب دور اور نازک ترین حالات سے دوچارہے ۔انسان ہی انسانیت کا دشمن بناہوا ہے ۔علم وہنر کی ساری قوت ہی آدمیت کو ختم کرنے کے لےء وقف ہوچکی ہے ظلم وجور جبر وتعدی دہوکہ اورفریب کاہرطرف اورہرسمت بازارگرم ہوتا جارہ ہے ہواے نفس کی پیروی اور روحانیت سے تمسخر لازمہ زندگی بنتا جارہا ہے
محض اپنی تن آسانی اور نفس پروری کے لےء کمزوروں ناتوانوں اور ضعیف وناداروں کا خون چوساجارہا ہے رشک فردوس
ایوانوں اورفلک بوس عمارتوں کو کھنڈروں میں تبدیل کرنے کے منصوبے بناے جارہے ہیں ہلاکت وخون ریزی کے مناظر کو بعجلت تمام لانے کےلےء ایک دوسرے سے مسابقت کی جارہی ہے باغبان ازلی کے لہلہاتے چمن کو اجاڑنے اورمسمار کرنے کرنے کے گہرے مشورے ہورہے ہیں
ایمان وعمل عدل وانصاف عفت وعصمت اورمذاہب ومسالک کو خس وخاشاک کی طرح اکھاڑپھینکنے کے مضبوط ارادےکےء جارہےہیں

تاکہ انسان کے پاس کوی اسلامی ضابطہ حیات باقی نہ رہنے پاے انہی حالات کو دیکھ کر اکابرین نے دینی مدارس کے قیام کو لازم سمجھا تاکہ ان کے ذریعہ سے قوم وملت کے ایمان وعقائد ان کے اعمال واخلاق ان کے تشخص کا تحفظ کیا جاسکے
مولاناامیر اللہ خان نے کہا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آنے والاہے
اس سے قبل ہر مسلمان مرد عورت کو چاہیے کہ وہ قرآن مجید سے وابستہ ہوجاے رمضان میں کم کھانے پینے کی عادت ڈالیں پابندی اے روزہ رہیں اوقات کو ضائع ہونے سے بچائیں تلاوت قرآن کثرت سے کرتے رہیں نوافل بطور خاص نماز تہجد اداکرنے کی فکر کریں استغفار اور دعاؤں کو جاری رکھیں
مدارس اسلامیہ اور ان سے فارغ ہونے والے ان حفاظ کی قدرومنزلت کو سمجھیں ان کو محبت کی نگاہوں سے دیکھیں
مولانا قطب الدین نے کہا کہ مولانا ولی اللہ قاسمی کا یہ گلشن ہے جہاں سے آج 25طلباء نے تکمیل حفظ کہ سعادت حاصل کی ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو حافظ وعالم بناکر دین پر چلنے اور دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ بننے کا موقع دیں دنیاوی تعلیم بھی لازما دلوائیں لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں اپنے بچوں کے دین وایمان کے تحفظ کو اولیین ترجیح دیں

حافظ پیر خلیق احمد صابر جنرل سکریٹری تلنگانہ وآندھرانے حافظ قرآن طلباء کو ان کے اساتذہ منتظمین اور سرپرستوں کو مبارکباد دیتے ہوے کہا کہ اس علم کی عظمت کو سمجھنے کی ضرورت ہے یہ اللہ کی سب سے بڑی کتاب ہے اس کا حاصل کرنے والا بھی عظمت ومقام کے اعتبار سے سب سے بڑے درجہ کا ہوتا ہے عوام الناس کو چاہیے کہ ان کی قدردانی کریں
مہمان خصوصی مولانامفتی سلمان منصورپوری نے کہا کہ ہر مومن کو اپنے ایمان کی لاج رکھتے ہوے زندگی گذارنا چاہیے مگر حافظ قرآن کو ایمان کے ساتھ ساتھ اپنی دستار فضیلت کی بھی لاج رکھنا لازم ہے
اپنا اسلامی تشخص اوردینی پہچان برقراررکھتے ہوے اس علم کی قدردانی کریں قرآن کو یادرکھ کر یومیہ تلاوت کا معمول بنائیں تلاوت قرآن کوتاہی نہ کریں پھر آگے اس علم کے تقاضوں جاننے کےلےء عالمیت کی تعلیم حاصل کریں ناظم مدرسہ مولاناسید سمیع اللہ نے مہمانوں کا شکریہ اداکرتے ہوے اپیل کی کہ شہر کے ہر گھر سے ایک بچہ کو حافظ قرآن بنانے کا عہد کریں

مولاناعبدالقیوم شاکر القاسمی نے جلسہ کی نظامت کرتے ہوے ادارہ کی 32سالہ مثالی خدمات اور ادارہ کے بانی وروح رواں مولاناسید ولی اللہ قاسمی علیہ الرحمۃ کی انتھک محنتوں کوشمارکرایا اور حالات زمانہ کی عکاسی کرتے ہوے دینی مدارس کے کرداراور ضرورت پر روشنی ڈالی
اجلاس ہذامیں اربن ایم ایل اے بیگالہ گنجش گپتا اوراقلیتی قائدین کے علاوہ شہر واطراف شہر سے علماء حفاظ اور عوام الناس کی کثیر تعدادنے شرکت کرتے ہوے استفادہ کیا قاری محمد بن منصر نے تلاوت قرآن کی حافظ معتصم نے نعت نبی ہیش کی جافظ افسر نے حمدیہ کلام پیش کیا مہمان خصوصی نے 25طلباء کو قرآن مجید کا آخری رکوع پڑھاکر سند فضیلت ودستار سے نوازااور اپنی دعاء پر اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا
