قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ جاری۔
نئی دہلی :2؍اپریل
(اے ایم این ایس)
ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ڈیزل پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے عام لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ ہفتہ کو بھی آئل کمپنیوں نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 80 پیسے کا اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے تیل کمپنیاں تقریباً ہر روز ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔
گزشتہ 10 دنوں کی بات کریں تو تیل کمپنیوں نے گزشتہ 10 دنوں میں ایندھن (پیٹرول ڈیزل کی قیمت) کی قیمت میں 7 روپے سے زیادہ کا اضافہ کیا ہے۔ اس اضاضہ کے بعد ملک کے کئی حصوں میں 100 روپے سے اوپر چلنے والے ڈیزل پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ڈیزل، پیٹرول اور ہری سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ہی کئی چیزوں کی قیمتیں بڑھنے لگی ہیں جس کا براہ راست اثر عام لوگوں کی جیب پر پڑ رہا ہے۔
Petrol Diesel Price: Petrol-diesel prices increased by Rs 7.20 in the last 12 days, know what is the rate in your city https://t.co/06gkh6vuff
— Newslead India (@NewsleadIndia) April 2, 2022
غور طلب ہے کہ جمعہ کو ایندھن کی قیمت (پیٹرول ڈیزل کی قیمت) میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن ہفتہ کو ایک بار پھر ہمیں مہنگائی کا سامنا ہے۔ ہفتہ کے اضافے کے بعد چار میٹروز میں بھی تیل کی قیمتوں میں تبدیلی آئی ہے۔
آج دہلی میں پٹرول کی قیمت 102.61 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 93.87 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ممبئی میں پٹرول 117.57 روپے اور ڈیزل 101.79 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ چنئی میں پٹرول 108.21 روپے اور ڈیزل 98.28 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ وہیں کولکتہ میں پٹرول 112.19 روپے اور ڈیزل 97.02 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے
ہر روز ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا فیصلہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں اور غیر ملکی کرنسی کی شرح کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد پر یہ ہر روز صبح 6 بجے اپ ڈیٹ ہوتے ہیں۔ آئیل مارکیٹنگ کمپنیاں خام تیل کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے بعد نئے نرخ جاری کرتی ہیں۔
Petrol diesel prices increased by 80 paise
Shame 😡
भाजपा हटाओ देश बचाओ pic.twitter.com/8S5a0LHHSs— ABHAY KUMAR (@aBHAYkU12616070) April 2, 2022
ہندوستان پیٹرولیم، انڈین آئل اور بھارت پیٹرولیم کمپنیاں روزانہ صبح مختلف شہروں میں تیل کی قیمتوں کو اپ ڈیٹ کرتی ہیں، جس کے بعد ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور کمی کا پتہ چلتا ہے
