مرکزی وزیر سیاحت مسٹر جی کشن ریڈی کے نام ریونت ریڈی کھلا مکتوب
حیدرآباد_15/ اپریل
(زین نیوز)
صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹراے ریونت ریڈی نے
فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے گوداموں سے غیب چاول کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ ریاست تلنگانہ میں اناج کا حصول کشم ملنگ اور اناج کی ایف سی آئی کو سر براہی کے عمل میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں سرزد ہوئی ہے۔
ٹی آرایس حکومت کے اہم قائدین میں سے چند ایک رائس ملرس سے گٹھ جوڑ کر کے سالانہ ہزاروں کروڑ روپے کی اناج کے اسکام کا بھی الزام لگایا۔
اس سلسلہ میں مسٹر ر یونٹ ریڈی نے مرکزی وزیر سیاحت مسٹر جی کشن ریڈی کے نام ایک کھلا مکتوب تحریے کیا ہے۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ چار سال 2 2 تا24 مارچ کے درمیان ایف سی آئی کے عہد یداروں نے نچلی سطح کی جو برسر موقع شخصی طور پر جانچ کی تھی اس میں بدعنوانیوں کا واضح طور پر انکشاف ہوا ہے۔
سال21-2020 موسم ربیع اور سال22-2021 موسم خرایف سے تعلق رکھنے والے اناج کی ذخیرہ اندوزی کے معاملہ میں میتحقیقات کی گئی تھی ۔اس موقع پر رائس ملرس کے لئے مختص ذخیرہ میں سے یکا یک 4,53,896 تھیلے اناج ہی غیب ہو گئے جس کی عہد یداروں نے نشاندہی کی تھی ۔
ان کی لاگت 45 کروڑ روپے کے قریب ہے۔ایف سی آئی کوفراہم کئے جانے والے چاول کو کھلے بازار میں فروخت کرتے ہوۓ غیر قانونی طور پر پیسے کمائے جار ہے ہیں ۔ راشن کے چاول کی ری سیلنگ اور اس کے بعد اسے ایف سی آئی کو سر براہ کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
ریاست بھر میں تین ہزار 200 سے زائد رائس ملز ہیں۔ ان میں سے 0 0 9ملز کی تفتح کرنے پر 0 0 4 کروڑ روپے کا انکشاف ہوا۔ 2014 سے اب تک کی ایم آر کا اختصاص ای ایف سی آئی کی جانب سے سر براہی لا پتہ چاول اور ذخیرہ کی تحقیقات ضروری ہے
جس کا مسٹر اے رپونت ریڈی نے مطالبہ کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بدعنوانیوں کی مرتکب رائس ملز کو بھی مہر بند کر دینا چاہئے ۔
رائس ملرس کے ساتھ ساز باز اور اس اسکام میں ملوث سازشی ٹی آرایس اہم قائدین کے خلاف فوجداری کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا ساتھ ہی چاول اسکام پر سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کرواتے ہوئے کشن ریڈی سے مانگ کی کہ وہ اپنی اس کے ذریعہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
