نئی دہلی : 2 / اپریل
(زیڈ این ایم ایس)
ملک کی ریاست اترپردیش ظلم و جبر میں جس کا کوئی ثانی نہیں ہے آئے مظلوم عوام پر حکومت اور اسکے کارندوں کی جانب سے تشدد برپا جارہا ہے۔
کسی نہ کسی بہانے مکانوں پر بلڈوزر چلاتے ہوئے مکانوں کو مسمار کرنا’ جھوٹے مقدمات میں ماخوذ کرتے ہوئے اقلیتی و دیگر پسماندہ طبقات کے لوگوں کو جیلوں میں ڈالنا حکومت اولین مقصد بن گیا ہے۔اور ایسے معاملات میں یو پی حکومت اولین نمبر پر ہے
ایسے ہی ایک واقعہ میں یو پی میں پولیس تشدد ‘ جنسی زیادتی کا شکار لڑکی نے دلبرداشتہ ہوکر اپنی جان دیدی۔
تفصیلات کے مطابق چندولی ضلع کے سیداراجا تھانہ علاقے کے منراج پور میں گینگسٹر کے ملزم کو پکڑنے کے لیے پولیس اتوار کو گینگسٹر کے گھر پہنچی، لیکن جب ملزم موقع پر نہیں ملا تو ٹیم نے اس کے گھر والوں کی بری طرح پٹائی کی۔
اس کے ساتھ ہی 19 سالہ بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے ملزم کنہیا یادو کی بیٹی نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ اسی دوران چھوٹی بیٹی پر بھی حملہ کیا گیا جس میں وہ بری طرح زخمی ہوگئی
اس پورے واقعہ کے بارے میں ڈی ایم سنجیو سنگھ نے بتایا کہ گینگسٹر کنہیا یادو کی بیٹی نشا اپنے گھر میں مردہ پائی گئی ہے۔
متوفی کو ایس ایچ او سیدراجہ نے مبینہ طور پر مارا پیٹا تھا جس کے بعد وہ دم توڑ گئی، ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا ہے اور متوفی کے اہل خانہ کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے کی کارروائی جاری ہے
پولیس نے بعد پنچامہ نعش کو بغرض پوسٹ مارٹم دواخانے منتقل کردیا۔
پولیس کی جانب سے تشدد اور لڑکی کی موت پر موضع کی عوام میں غم وغصہ کی لہر پائی جاتی ہے۔اور عوام کی جانب سے خاطی پولیس والوں کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کی جارہی ہے