ہنگامہ کے درمیان پہلے دن کا سروے مکمل
وارانسی:6؍مئی
(زیڈ ایم این ایس)
وارانسی میں آج کاشی وشوناتھ مندر اور گیانواپی مسجد کے احاطہ میں ویڈیو گرافی کی گئی۔ اس کے لیے عدالت نےگیانواپی مسجد اور کاشی وشوناتھ مندرمعاملے میں عدالت کا کمشنر مقرر کرتے ہوئے حکم جاری کیا تھا۔ گیانواپی مسجد اور کاشی وشوناتھ مندرمعاملے میں عدالت کا کمشنر مقرر سروے میں حصہ لینے کے لیے 10 وکلاء کی ٹیم بھی گیانواپی مسجد پہنچی۔، سروے ٹیم نے کمپلیکس میں بھاری پولیس کی تعیناتی کے درمیان اپنا کام شروع کیا واضح رہے کہ پہلے دن کا سروے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور سروے کا کام کل بھی جاری رہے گا۔
عدالت نے ایڈوکیٹ اجے کمار کو سروے اور معائنہ کرنے کے لیے مقرر کیا تھا۔ عدالت نے ایڈوکیٹ کمشنر سے کہا تھا کہ وہ 10 مئی کو ہونے والی اگلی سماعت سے قبل رپورٹ پیش کریں۔
عدالت کی ہدایت کے مطابق 6 اور 7 مئی کو مسجد کے احاطے کے اندر ویڈیو گرافی اور سروے کیا جائے گا۔عدالت نے کہا تھا کہ ایڈووکیٹ کمشنر اور فریقین کے علاوہ کوئی ایک ساتھی کارروائی کے دوران موجود رہ سکتا ہے۔
اسی دوران آج نماز پڑھنے آئے لوگوں نے عدالت کے حکم پر کئے جانے والے سروے کے خلاف احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ بابا وشوناتھ دھام کوریڈور کے باہر دونوں طرف سے نعرے لگائے گئے۔ ہر ہر مہادیو اور اللہ ہوں اکبر کے نعرے لگائے گئے۔
مقامی انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے قریبی علاقے میں پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کر دی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انجمن انتظامیہ مسجد، مسجد کی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ مقامی عدالت کے حکم کی مخالفت کرے گی اور ‘غیر مومنوں کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔
#GyanvapiMosque controversy: Tension in #Varanasi after Muslims protest against videography surveyhttps://t.co/QRqG1OUaV3
— India TV (@indiatvnews) May 6, 2022
انجمن انتظامیہ مسجد منیجنگ کمیٹی کے جوائنٹ سکریٹری ایس ایم یاسین نے کہا کہ "ہم ویڈیو گرافی اور سروے کے لیے کسی کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ گیانواپی مسجد کی منیجنگ کمیٹی عدالت کے اس فیصلے کی مخالفت کرے گی۔ اس فیصلے کی آئینی طور پر مخالفت کی جائے گی
بابا وشوناتھ دھام کوریڈور کے باہر ماحول میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس ہر محاذ پر تیار ہے۔ پولس نے ماحول کی کشیدگی کو بہتر کرتے ہوئے بھیڑ کو ہٹانے کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ہی نعرے بازی کے بعد پولیس اور سماج کے کچھ لوگوں نے ماحول کو پرسکون کر دیا۔ فی الحال مندر کے باہر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات ہے۔
دوسری طرف، جمعہ کو نماز پڑھنے گیانواپی مسجد میں بڑی تعداد میں لوگ آئے۔ ایسے میں، محفوظ ویڈیو گرافی کروانا وارانسی انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج ہے۔ سروے سے قبل مسجد کا جو حصہ سڑک سے نظر آتا ہے اسے سبز پردوں اور ہورڈنگز سے ڈھانپ دیا گیا ہے
درحقیقت، پانچ خواتین ریکھا پاٹھک، سیتا ساہو، لکشمی دیوی، منجو ویاس اور راکھی سنگھ کی طرف سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ پانچوں درخواست گزاروں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ رنگار گوری مندر میں روزانہ پوجا کی اجازت دی جائے۔ عدالت سے اجازت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ گیانواپی مسجد احاطہ میں رنگ گوری کا مندر موجود ہے۔ یہ مسجد کی دیوار سے ملحق ہے۔ یہ درخواست گزشتہ سال 18 اگست کو عدالت میں دائر کی گئی تھی۔
وارانسی سول کورٹ کا حکم 26 اپریل کو آیا تھا۔ حکم نامہ میں ایک کمیشن مقرر کیا گیا ہے۔ اس کمیشن کو 6 اور 7 مئی کو دونوں فریقین کی موجودگی میں رنگ گوری کی ویڈیو گرافی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے 10 مئی تک اس حوالے سے مکمل معلومات طلب کی ہیں۔