مرکز کا سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل
حکومت کی تحقیقات تک سماعت نہ کرنے عدالت سےاستدعاء
نئی دہلی:9؍مئی
(زین نیوز)
مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے سیڈیشن ایکٹ کی دفعات پر نظرثانی اور دوبارہ جانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکز نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ حکومت تعرزات ہند کی دفعہ 124 اے کی دفعات پر نظر ثانی کرے گی۔ مرکز نے عدالت میں حلف نامہ داخل کیا ہے۔ اس میں عدالت سےاستدعاءہے کہ مذکورہ مقدمہ کی حکومت تحقیقات نہیں کرتی، تب تک غداری کیس کی سماعت نہ کی جائے۔
بغاوت کے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواست ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا، ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا سمیت پانچ جماعتوں کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ کیس میں درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں اس قانون کی ضرورت نہیں ہے اس معاملے کی سماعت سی جے آئی این وی رمنا کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ کر رہی ہے۔اس بنچ میں جسٹس سوریا کانت ترپاٹھی اور جسٹس ہیما کوہلی بھی شامل ہیں۔
Centre tells Supreme Court that it has decided to re-examine and reconsider the provisions of sedition law and requests it not to take up the sedition case till the matter is examined by the government.
— ANI (@ANI) May 9, 2022
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا – پرانے قوانین کا جائزہ لینا اور منسوخ کرنا ایک مسلسل عمل ہے۔ حکومت ہند نے 2014-15 سے اب تک 1500 قوانین کو منسوخ کیا ہے۔ حکومتوں پر بغاوت کے قانون کا غلط استعمال کرنے کا الزام ہے۔ موجودہ دور میں اس قانون کی ضرورت کا جائزہ لینے کا فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایات کے بعد لیا گیا ہے۔
اس سے قبل سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران مرکز نے بغاوت کے قانون کو درست قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے برقرار رکھا جائے۔ بغاوت کے قانون کا دفاع کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے ہفتہ کو سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ اس قانون کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا جائے۔حکومت نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ وہ نوآبادیاتی قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر غور نہ کرے اور مرکز کے ذریعہ دوبارہ غور کرنے کی مشق کا انتظار کرے۔
سپریم کورٹ نے قبل ازیں 10 مئی کو ان درخواست گزاروں کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر کی تھی جو بغاوت کے قانون کی آئینی جواز کو چیلنج کر رہے ہیں۔چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں تین ججوں کی آئینی بنچ غداری کے قانون کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست کی سماعت کر رہی ہے۔
چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کو بھی یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا اس عرضی کو پانچ یا سات ججوں کی آئینی بنچ کے پاس بھیجنا ہے یا تین ججوں کی بنچ کو اس عرضی کی سماعت کرنی چاہئے۔
کیدار ناتھ بمقابلہ بہار کیس کا حوالہ دیتے ہوئے، مرکزی حکومت نے تحریری طور پر تین ججوں کی بنچ کو بتایا تھا کہ پانچ ججوں کی بنچ نے غداری کے قانون سے متعلق فیصلہ دیا ہے، اس لیے اب اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سال 1962 میں کیدار ناتھ بنام ریاست بہار کیس میں عدالت عظمیٰ کی پانچ ججوں کی بنچ نے کہا تھا کہ بغاوت کے قانون کے غلط استعمال کے امکانات کے باوجود اس قانون کی افادیت ضروری ہے۔