حجاج کرام وقوف عرفہ کے بعد رات مزدلفہ میں گزاریں گے

تازہ خبر عالمی مذہبی
’لبیک اللٰھم لبیک‘ کی صداؤں سے مناسک حج کا آغاز
مکہ مکرمہ:8؍جولائی
 (ویب ڈیسک) 
دنیا بھر سے لاکھوں حجاج کرام نے جمعہ کے روز کوہ عرفات کی مقدس پہاڑی پر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر توبہ کی دعا کی، یہ عبادت کا ایک شدید دن ہے جسے سالانہ حج کا عروج سمجھا جاتا ہے۔مسلمان حجاج اپنی صبح کی نماز ادا کرنے کے لیے عرفات کے پہاڑ پر جمع ہوئے، جسے جبل الرحمہ (رحم کا پہاڑ) بھی کہا جاتا ہے۔
جمعہ کو میدان عرفات میں ہر طرف لبیک اللھم لبیک، لبيك لا شريك لك لبيك، ان الحمد والنعمۃ لك والملك، لا شريك لك کی صدائیں گونجتی رہیں، لاکھوں مسلمان میدان عرفات میں اللہ کے حضور دعاؤں میں مصروف ہیں اور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں
عازمین مزدلفہ میں آج رات قیام اور رمی کے لیے کنکریاں جمع کریں گے اور فجر کی نماز ادا کرکے رمی ( بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے) کے لیے جمرات روانہ ہوجائیں گے۔اس کے بعد وہ قربانی کریں گے اور پھر حلق کروا کے احرام اتارکر اس کی پابندیوں سے آزاد ہوجائیں گے۔
اس سے قبل لاکھوں عازمین نے جمعرات 7 جولائی کو مسجد الحرام سے تقریباً 5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وسیع خیموں والے شہر منیٰ میں رات گزاری، جہاں انہوں نے ظہر، عصر، مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کیں، حجاج کرام 9 ذی الحجہ کو فجر کی نماز ادا کرکے میدان عرفات پہنچے۔
منیٰ میں رات بھر عازمین عبادات، تلاوت اور استغفار میں مصروف رہے۔ 10 لاکھ سے زائد عازمین آج حج اکبر کی سعادت حاصل کریں گے، خطبہ حج ہندوستانی وقت کے مطابق 2بج کر 10 منٹ پر دیاگیا۔ مسجد نمرہ سے خطبہ حج ادا کیا جائے گا۔ نبی مہربان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی میدان میں آخری خطبہ دیا تھا، جس میں انسانیت کا ابدی منشور پیش کیا تھا۔

حج کے موقع پرمکہ مکرمہ میں درجہ حرات 42 سینٹی گریڈ کی حد تک پہنچ گیا ہے، گرمی سے بچنے کیلئے بہت سے حجاج کرام نے ہاتھوں میں چھتریاں تھام لیں، سعودی حکومت کی جانب سے عازمین میں لاکھوں چھتریاں تقسیم کی گئی ہیں۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عازمین حج کے لیے وسیع تر انتظامات کیے گئے ہیں، یہ حج کرونا کے دو سال بعد وسیع پیمانے پر کیا جارہا ہے، اسی تناظر میں عازمین حج کی صحت سے متعلق بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سعودی حکام نے حجاج کرام کو طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں 23 اسپتال اور 147 صحت مراکز تیار کیے ہیں۔
ایسے مریضوں کے لیے 1,000 سے زیادہ بستر ہیں جنہیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے اور 200 سے زیادہ خاص طور پر ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے لیے احتیاطی طور پر خاص اہتمام کیا گیا ہے، وہیں 25,000 سے زیادہ ہیلتھ ورکرز کسی بھی طرح کی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔