تلنگانہ میں مذہب سے قطع نظر بہت سے لوگ روانی سے اردو بولتے ہیں ۔ ریاستی وزیر کے ٹی آر
حیدرآباد: 16؍جولائی
(زین نیوز)
اردو زبان کو مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا ہے اور تنگ نظر لوگ اسے صرف ایک خاص برادری کی زبان کے طور پر پیش کررہے ہیں اور تقسیم کی سیاست کا سہارا لے رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو کوئی مذہبی زبان نہیں ہے۔یہ بات ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق اور شہر ی ترقیا ت مسٹر کے ٹی آر نے کہی۔کے ٹی آر نے ڈنڈیگل کے بہادر پلی میں گورنمنٹ جونیر کالج کے افتتاحی تقریب کو مخاطب کررہے تھے ۔
قبل ازیں رکن اسمبلی قطب اللہ پور پی وویکانند نے اپنی تقرر کے دوران ریاستی وزیر سے درخواست کی کہ انکے حلقہ اسمبلی قطب اللہ پور میں اُردو میڈیم تعلیمی ادارہ قائم کرنے کی درخواست تھی۔
اس موقع پر ریاستی وزیر مسٹر کے ٹی آر نے اپنے تقرر میں کہاکہ تلنگانہ میں مذہب سے قطع نظر بہت سے لوگ روانی سے اردو بولتے ہیں اور لکھ بھی سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے اباو اجداد بھی روانی سے اردو بولتے ہی نہیں بلکہ پڑھتے تھے اور لکھتے بھی تھے لیکن کچھ تنگ نظر لوگ‘ اُردو زبان کو ایک مخصوص طبقہ سے جوڑ رہے ہیں
وزیر موصوف اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئےکہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کچھ فنڈز منظور کرکے اردو زبان کو فروغ دیا، وہیں ریاست میں بی جے پی پارٹی کے لیڈر اردو کو مسلم کمیونٹی سے جڑی زبان کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
کے ٹی آر نے واضح کیا کہ سبھی کو تمام زبانیں سیکھنی چاہئیں۔جو لوگ اُردو زبان سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ اسے سیکھ لیں۔ یہ حکومت صرف مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر سیاست کرنے والی حکومت نہیں ہے، ہم اردو میڈیم میں کالج بھی دیں گے۔ اردو، انگریزی اور تیلگو زبانوں میں کوئی فرق نہیں کرتے۔
انہوں نے کانگریس کےقائدین نلگنڈہ کے رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی ‘ کانگریس لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ نظام آباد مدھو یشکی گوڑ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ایک پریس کانفرنس میں دونوں قائدین نے کہ منا اورو منا بڈی پروگرام کو لیکر متضاد بیانا ت سامنے آئے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ اتم کمار ریڈی نے یہ الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے منا اورو منا بڈی پروگرام کے لئے ایک روپیہ بھی منظور نہیں کیا گیا ہے‘ جبکہ سابق رکن پارلیمنٹ مدھو یشکی گوڑ نے کہا کہ یہ رقم چوری کی گئی ہےایک گھوٹالہ ہواہے ۔
"ایک ہی پریس کانفرنس میں، ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے، وہ ایک ہی مائیک کا استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے سے تضاد کرتے ہیں۔ اگر ان کے لیڈروں میں سے ایک کے مطابق فنڈز کی منظوری نہیں دی گئی تو وہ کیسےچوری ہو سکتی ہیں،‘‘