سافٹ زبان کے ہاٹ نیوز ،ہاٹ اینکرس

مذہبی

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ

۔9986437327
اردوزبان کا جب تذکرہ آتاہے تو اس میںقدرتی طور پر شفافیت،معصومیت اور غیر عریانیت کاتصور آتاہے،بڑے سے بڑا شاعر، ادیب اور بڑے سے بڑا اردواخبار بھی اپنے قلم کو عریانیت و بے حیائی سے پاک رکھنے کی کوشش کرتارہاہے۔ہاں کچھ قلم کاروںنے رومانس کو اپنے ادب میں باادب طریقے سے پیش کیا،سعادت حسن منٹونے اپنے افسانوںمیں سماج کی حقیقت کو پیش کیانہ کہ افسانوں کے ذریعے سے عریانیت کوعام کیا۔اس سے بھی اگر پیچھے جائے تو کچھ حقیقتوں کی بنیاد پر قلم کاروںاورشعراء وادباء نے عورتوں ،عشق اور رومانس کو بڑے ہی سلیقے کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیاجس کے ذریعے سے ایک مثبت پیغام لوگوں کودینے کی کوشش کی۔اب21 ویں صدی کاانقلاب ہے۔بدن پہ برقعہ،چہرا بے نقاب ہے۔اس لئے ویب پورٹل اور یوٹیوب پر بامہذب اور دیندار کہلائے جانے والے وہ لوگ جنہوںنے مسلم میڈیاکی کمی کو محسوس کرتے ہوئے ویب پورٹلس،یوٹیوب چینل اور صحیفے نکالنے کی پہل کی ہے،انہوںنے بھی قومِ مسلم کی ترجمانی کے نام پر ان کاآغاز توکردیا لیکن درمیان میںراہوںمیں اتار چڑھائو آنے سے پہلے ہی مغربیت کی چالوں کو اپنانا شروع کردیاہے۔کئی اردو نیوز پورٹلس میں باقاعدہ طور پر سیکس ،غیر اخلاقی حرکتیں،خواتین کی عریاں تصاویر،ناجائز رشتوںکی کہانیاںاور ازدواجی زندگیوںکی کمیوںو خوبیوں کو اجاگر کرتے ہوئے دکھایاجارہاہے اور پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ان کے ویوورس کی تعدادمیں اضافہ ہوجائےاور لوگ ایسی خبروں کو پڑھ کر خوب قلبی سکون حاصل کریں۔اسی طرح سے کچھ اردو نیوز پورٹلس خبروںکے ساتھ ایسی خوبصورت لڑکیوںکی تصاویر شائع کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیںجس کا خبر سے کوئی تعلق ہی نہیںہوتا۔کچھ سال پہلے ایک شیونگ بلیڈکے اشتہارمیں ایک خاتون کو ریزر پکڑے ہوئے دکھایاجاتاتھا،جبکہ شیونگ اور خاتون کا کوئی رشتہ ہی نہیں ہے،البتہ اُس نیم عریاں خاتون کو بتاکر شیونگ بلیڈ والوںنے خوب پیسے کمائے۔اسی طرح سے ایک کولڈڈرنگ کے اشتہارمیں ایک پیاسی خاتون کولڈڈرنگ پیتی ہے تو اس کے قطرے گلے کے اندرنہیں بلکہ ٹھوڑی سے ہوتے ہوئے گلے سےاترکرسینے کی طرف جاتے تھے، جو دیکھنے والوںکو اس کی طرف مائل کرتے تھے۔اسی طرح سے اب اردو ویب پورٹلس اور یوٹیوب چینلس پر بھی اسی طرح کی وہیائت تصاویر چسپاں کی جارہی ہیں،کچھ تو خبریں دینے کیلئے خوف صورت خواتین کو خوبصورت بنا کر ناظرین اکرام سے مخاطب کروارہے ہیں۔سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ یہ قوم مسلم کی کونسی ترجمانی ہے؟۔یقیناً صحافت کو مذہبی روایات سے جوڑ کر دیکھا نہیں جاسکتا نہ ہی عمومی صحافت میںدینداری کو شدت سے پیش کیاجاسکتا ہے،لیکن روایات سے بڑھ کر رواج،تہذیب اور اخلاق بھی بنیادہے تو اُس پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔عریانیت کوعام کرتے ہوئے خبریں پہنچانے والے ٹی وی چینلس تو ہمارے پاس بہت ہیںلیکن صحافت کی پاسداری کرتے ہوئے لوگوںکی ترجمانی کرنا کسی بھی صحافتی زمرے کی اہم ذمہ داری ہے۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیںکہ خواتین کی نمائش سے ہی ویب سائٹ کی رونق ہے اور اسی سے ویب سائٹس چلتی ہیں تو یہ سراسر جھوٹ ہے۔بی بی سی کی بات لی جائے یہ خبررساں ادارہ عیسائیوں کے ماتحت رہ کربھی آج تک اخلاقیات و صحافتی بنیاد کو اپنے سے دورنہیں کرپایا۔بی بی سی اردو سےجڑی ہوئی خواتین لندن جیسے ممالک میں رہ کربھی اب بھی بہت حدتک محتاط ہیں،مگر کل پرسوں سے منظرعام پرآنے والے ویب پورٹلس،اخبارات اور یو ٹیوب چینلس پر عریانیت کو جس طرح سے عام کیاجارہاہے،اس سے یہ بات ثابت ہے کہ شہرت کیلئے کچھ بھی ،ضرورت کیلئے کچھ بھی کرنے کیلئے ہم تیارہیں۔

EDITOR
AAJ KA INQALAB