اردو سے محبت کا دعوی نہیں حق ادا کرنے کی ضرورت
میدک میں اردو اسکول اور کالجس کی سنگین صورتحال
میدک 28/جولائی
( محمد ریاض الدین کی رپورٹ)
میدک میں اردو میڈیم سرکاری جونیئرکالجس اور مدارس کی سنگین صورتحال ہے طلبہ کے داخلے کو لے کر جہاں اساتذہ فکر مند ہے وہی اہلِ اردو کو بھی فکر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اردو میڈیم کالجز اسکول کی حالت طلباء کے فقدان کی وجہ سے اداروں کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہو رہا ہے
میدک گورنمنٹ گرلز کالج میں صرف 10 طالبات نے داخلہ لیا ہے جب کہ گورنمنٹ بوائز کالج میں چار طلبہ نے داخلے کے لیے اپنا اپلیکیشن داخل کیا ہے ۔دسویں جماعت کے امتحانات کے نتائج بہت پہلے آ چکے اور داخلوں کا سلسلہ بھی جاری ہے مگر اردو سے محبت کا دعوی کرنے والوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ اردو میڈیم ذریعہ تعلیم دلوانا نہیں چاہتے ۔
وقت کے ساتھ وہ بھی وہ بھی انگریزی میڈیم کی طرف مائل بہ کرم ہیں اردو میڈیم مدارس اور کالجز داخلے کے لیے طلبہ کے منتظر ہے طلباء کا رحجان جہان انگریزی میڈیم کی طرف ہے وہی ارباب مجاز اردو کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں
میدک اردو میڈیم کالجز میں مضمون واری لیکچرس موجود ہیں لیکن طلبہ کے داخلوں کا فقدان ایک طرف لیکچرس کو اور دوسری جانب اہل اردو کو پشمانی میں مبتلا کردیا ہے یہ وہ زبان ہیں جو کبھی ترقی کا زینہ مانا جاتا تھا لیکن آج سے
اردو کو حقیر سمجھا جا رہا ہے
اہل اردو -؟ محبان اردو سے پر زور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اردو میڈیم کالجس میں داخلہ دلواکر ان تعلیمی اداروں كو بچا لیں ۔ ورنہ آنے والی نسل اردو سے نابلد ہوکر رہے جاےگی ۔اور یہ کا لجس کا وجود خطرے میں پڑسکتا ہے ۔۔۔