امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ رہنما الظواہری مارا گیا۔ امریکی حکام کا دعویٰ

تازہ خبر عالمی
امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹوئٹ کے ذریعہ تصدیق کی
واشنگٹن:2؍اگسٹ
(زیڈ این ایم ایس)
 امریکا نے دہشت گردی کے خلاف بڑا حملہ کر دیا ہے۔ اس نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو ڈرون حملے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ 2011 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے 11 سال بعد دہشت گردی کے خلاف یہ امریکہ کا سب سے بڑا حملہ ہے۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ الظواہری کو افغانستان میں سی آئی اے کے ڈرون نے مار گرایا تھا۔

جو بائیڈن نے ٹویٹ کرکے موت کی تصدیق کی۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی ٹویٹ کر کے القاعدہ رہنما الظواہری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ہفتہ کے روز میری ہدایات پر امریکا نے افغانستان کے شہر کابل میں کامیاب فضائی حملہ کیا جس میں القاعدہ کے امیر ایمن الظواہری مارے گئے۔
واضح رہے کہ القاعدہ لیڈر الظواہری پر امریکہ میں کئی حملوں کا الزام تھا۔ 2001 میں الظواہری نے 11 ستمبر کو امریکہ پر فضائی حملے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان حملوں میں چار امریکی شہری طیارے ہائی جیک کیے گئے اور وہ نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر، وزارت دفاع، واشنگٹن کے قریب پینٹاگون اور پنسلوانیا کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرا گئے۔ ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد مارے گئے۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے اتوار کو افغان دارالحکومت کابل میں ڈرون حملہ کیا تھا۔ ایمن الظواہری اس حملے میں مارے گئے تھے۔ یہ حملہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف مہم کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا۔ ان کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق ہوئی تو طالبان کے کردار پر سوالات اٹھیں گے۔
سوالات اٹھیں گے کہ کیا طالبان نے گزشتہ سال اگست 2021 میں کابل پر قبضے کے بعد الظواہری کو پناہ دی تھی۔ سال 2021 میں 20 سال بعد امریکی افواج افغانستان چھوڑ کر واپس امریکہ چلی گئیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ اتوار کی صبح کابل میں ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی۔ ترجمان عبدالنفی ٹکور نے بتایا کہ راکٹ شیرپور میں ایک گھر پر گرا۔ گھر خالی ہونے کی وجہ سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔