کرناٹک میں محمدفاضل کے قتل ملوث 6؍رکنی ٹولی گرفتار۔کرناٹک پولیس

تازہ خبر قومی
 بی جے پی یووا مورچہ کے کارکن کے قتل کا بدلہ کے طور پر جرم کا اعتراف
منگلور: 3؍اگسٹ
(زین نیوز؍ایجنسیز)
 منگلورو میں پولیس نے 28 جولائی کو کرناٹک کے سورتھکل میں مسلم نوجوان فاضل کے قتل کے سلسلے میں چھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔کرناٹک پولیس ذرائع نے بدھ کو بتایا کہ کرناٹک میں گذشتہ ہفتہ پیش آئے محمد فاضل کی قتل کی واردات میں پیش رفت ہوئی ہے تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دکشینا کنڑ ضلع میں 23 سالہ محمد فاضل کا قتل بی جے پی یووا مورچہ کے کارکن پروین کمار نیتارے کے قتل کا بدلہ لینے کے طور پر کیا گیا تھا۔
پولیس نے 28 جولائی کو ہونے والے فاضل کے قتل کے سلسلے میں تین بدمعاشوں سمیت چھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمان نے 26 جولائی کو پراوین کے قتل کے بدلے کے طور پر جرم کا اعتراف کیا ہے۔پولیس نے سوہاس شیٹی (29)، موہن (26)، گریدھر (23)، ابھیشیک (21)، سری نواس (23) اور ڈکشتھ (21) کو گرفتار کیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ سوہاس شیٹی بجرنگ دل کی گورکشا یونٹ کا رکن تھا۔ ان کے خلاف قتل کے الزامات سامنے آنے کے بعد انہیں 2020 میں ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ دیگر پانچ افراد کے ہندوتوا تنظیموں سے روابط ہیں اور پولیس اس محاذ پر معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔
پولیس اب تک اس معاملے میں سات افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ وزیر داخلہ اراگا جنیندرا نے کہا تھا کہ محکمہ پولیس نے فاضل کے قتل کیس کا سراغ لگایا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ پراوین کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے یہ گینگ پراوین کے قتل کے دن ہی مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو مارنے کے لیے تیار تھا۔ مرکزی ملزم سوہاس شیٹی نے قتل کی منصوبہ بندی کی اور ٹیم کے دیگر ارکان کو اکٹھا کیا۔
اس گینگ کو مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے چھ افراد کی فہرست ملی تھی اور بعد میں فاضل پرنشانہ بنایا گیا کیونکہ اس کی شخصیت متوفی پراوین سے ملتی تھی۔ منگلورو کے پولس کمشنر این ششی کمار نے کہا تھا کہ فاضل کے قتل کی کوئی محبت، جھگڑا یا کوئی اور وجہ نہیں تھی۔ ملزم نے اسے انتقام کا نشانہ بنایا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو حراست میں لے کر مزید تفتیش کی جائے گی۔
کرناٹک کے محکمہ پولیس نے اعلان کیا ہے کہ ساحلی ضلع میں فرقہ پرست طاقتوں اور سماج دشمن عناصر کی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے ایک خصوصی مہم چلائی جائے گی