پولیس کا بھاری بندوبست 4 مقامات پر ناکہ بندی ملبہ کی صفائی سنگ بنیاد کی تقریب منسوخ
حیدرآباد 6/ اگسٹ
(زین نیوز)
شمس آباد میں مسجد خواجہ محمود آباد میں آج مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا کی جسے فرقہ پرست اور تنگ نظر عہد یداروں نے رات کی تاریکی میں غنڈوں کی طرح شہید کیا تھا ۔تا ہم مسلمانان تلنگانہ بالخصوص شمس آباد وحیدرآباد کے ذمہ داروں کے احتجاج کے بعد حکام کو اپنے ناپاک عزائم سے قدم پیچھے اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا۔
یہ مسجد جوگر بین ایونیو کالونی میں گراؤنڈ اور بالائی منزل پر تعمیر کی گئی تھی جہاں مسلسل دوسال سے نماز پنجگانہ ادا کی جارہی تھی تاہم مسجد سے متصل ایک غیر مسلم شخص کی شکایت پر پولیس کی بھاری جمعیت کے ساتھ ہلدی کمشنر کے زیرنگرانی اسے رات کی تاریکی میں بلڈوز کر دیا گیا تھا۔اس موقع پر مقامی مسلمانوں کے مکانات کے دروازے باہر سے بند کر دے گئے تھے تا کہ کسی کو اس پر اعتراض یا مداخلت کا سرے سے موقع ہی نہ ملے ۔اس منصو بہ بند کاروائی کے تحت سب سے پہلے کالونی کی برقی کومنقطع کیا گیا اور پولیس کی بھاری جمعیت کے ساتھ علاقہ کی ناکہ بندی کی گئی۔
آج نماز جمعہ سے قبل مقامی رکن اسمبلی ( ٹی آرایس) مسٹر پرکاش گوڑ بھی مسجد کے علاقہ کا دورہ کیا اور مقامی مسلمانوں کو یقین دیا کہ اسی جگہ پر حسب معمول نماز جاری رہے گی ۔قبل از میں مسلمانوں کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ مسجد کی تعمیر نو کا نماز جمعہ کے موقع پر رکھا جائے گا تاہم چند ایک مسلمانوں نے میں تاویل پیش کی کہ پہلے ہی اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے تو دوسری مرتبہ شریعت کے مطابق سنگ بنیاد کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ جب ایک مرتبہ کسی مقام پر مسجد تعمیر ہوتی ہے تو یہ جگہ تا قیامت مسجد ہی کہلاۓ گی ۔
چاہے اس پر عمارت یا ڈھانچہ رہے یا نہ رہے۔ زمین تو مسجد ہی کہلاۓ گی۔اس پر تمام نے اتفاق کیا اس لئے سنگ بنیاد کے پروگرام کو منسوخ کیا گیا۔
نماز جمعہ میں میونسپل کونسل شمس آباد کے ٹی آرایس کارپوریٹرس جہانگیر تاج بابا امجد کالونی کے مسلمانان انتظامی کمیٹی کے ذمہ دار مجلس کے مقامی صدر شکور معتمد فصیح اور حیدرآباد سے رکن اسمبلی کاروان مسٹر کوثر محی الدین کے بشمول کار پوریٹرس مسرس را شد فراز الدین نصیرالدین فرحان مظفر انچارج مجلس را جندر نگر رحمت بیگ اور دوسروں نے شرکت کی ۔ زائدان0 20 مصلیوں نے نماز پڑھی ۔امام مسجد نے قبل از نماز اردو میں بیان کیا خطبہ دیا امامت کی ۔اس کے بعد گڑ گڑا کر دعاء کی ۔ اس موقع پر پولیس کا وسیع تر بندوبست دیکھا گیا ۔
شہر کے سرکردہ افراد جو مختلف سیاسی جماعتوں اور مذہبی اور سماجی تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے گرین ایو مینو کالونی پہنچنے والے تھے مگر 4 جگہ پولیس کی ناکا بندی کی گئی تھی اگر مزاحمت کی جاتی تو انہیں گرفتار کیا جا تا ۔ پولیس کے بھاری بندوست کی وجہہ سے غیر مقامی مسلمان نماز میں حصہ لینے سے قاصر رہے ور نہ چھوٹ دی جاتی تو10 5 1 ہزار مسلمان نماز جمعہ ادا کرتے ۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہوگا کہ پولیس نے نظم و قانون کی برقراری کے پیش نظر کل سے ہی کالونی کے مسلمانوں کو نماز کیلئے آنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا اور غیر مقامی مسلمانوں کو لاء اینڈ آرڈر کے پیش نظر مسجد خواجہ محمود میں داخلہ پر امتناع عائد کی تھی ۔انتظامی کمیٹی مسجد خواجہ محمود نے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے کل سے ہی ملبہ کی صفائی کا آغاز کیا تھا۔ سینکڑوں لاریوں کے ذریعہ 14ایٹا چیوں (جے سی بی) کی مدد سے ملبہ کو دوسرے مقام منتقل کیا مسجد کی زمین کو مسطح کر کے باضابطہ صفیں بنائی گئی ۔
نماز میں مقامی بوڑھے بچے اور نو جوانوں نے حصہ لیا۔ حیرت کی بات ہے کہ جس جوش وخروش کے ساتھ مسجد کی عمارت کو بلدی حکام نے شہید کیا گیا تھا آج وہ دور دور تک نظر نہیں آۓ ۔حتی کہ ریونیو کا عملہ بھی دیکھائی نہیں دیا۔
مسجد کے انہدام کی تحقیقات کیلئے کلکٹر ضلع رنگاریڈی نے جو سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی اس کی رپورٹ کا بھی ابھی تک کوئی اتہ پیڈ نہیں ہے۔ یہ شہادت ایڈیشنل کلکٹر پر دیب جین کی ہدایت پرعمل میں لائی گئی تھی جو مسلم مذہبی جذبات اور شریعت کا پاس ولحاظ کئے بغیر قانون کی تا بعیداری کی کوشش کی جبکہ وہ جس سماج میں پرورش پاۓ ہیں انہیں سرکاری احکامات کے ساتھ ساتھ مذہبی جذبات کا بھی اندازہ ہونا چاہئے تھا کیونکہ ہندوستان کی سماج ایک دوسرے مذاہب سے جڑا ہوا ہے ۔
سیول سرونٹ کی حیثیت سے جہاں وہ سرکاری احکامات کو عائد کرنے کے پابند ہیں وہیں عوام کے حقوق کی پاسداری بھی انہی کے کندھوں پر عائد ہے۔