بی جے پی نے گڈکری اور شیوراج کو پارلیمانی بورڈ سے ہٹایا

تازہ خبر قومی
نئے پارلیمانی بورڈ اور الیکشن کمیٹی کا اعلان
نئی دہلی : 17؍اگست
(زیڈ این ایم ایس)
بہار میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مشن 2024 کے قلعہ کو فتح کرنے  کے لیے اپنی پارلیمانی کمیٹی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق،
بی جے پی نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان، اور مرکزی ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے وزیر نتن گڈکری کو پارلیمانی کمیٹی سے نکال دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آسام کے سابق وزیر اعلی سربانند سونووال، مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس، کرناٹک کے سابق وزیر اعلی بی ایس یدیورپا کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔
بی جے پی نے بدھ کو ایک نئے پارلیمانی بورڈ اور الیکشن کمیٹی کا اعلان کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کو 11 رکنی پارلیمانی بورڈ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ شیوراج سنگھ چوہان کو 2013 میں بورڈ میں شامل کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ جے پی نڈا، امیت شاہ، راج ناتھ سنگھ، سربانند سونووال، بی ایس یدیورپا، کے لکشمن، اقبال سنگھ لال پورہ، سودھا یادو، ستیہ نارائن جاٹیہ اور پارٹی سکریٹری بی ایل سنتوش کو نئے پارلیمانی بورڈ میں جگہ ملی ہے۔ پارلیمانی بورڈ اور الیکشن کمیٹی میں ایک بھی وزیراعلیٰ کو جگہ نہیں ملی۔
اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے 15 ارکان کی مرکزی انتخابی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ پی ایم مودی کے علاوہ جے پی نڈا، امت شاہ، راج ناتھ سنگھ، بی ایس یدیورپا، کے لکشمن، اقبال سنگھ لال پورہ، سودھا یادو، ستیہ نارائن جاٹیہ، بھوپیندر یادو، دیویندر فڑنویس، اوم ماتھر، بی ایل سنتوش اور وناتھی سرینواس کو جگہ دی گئی ہے۔
سربانند سونووال کو شمال مشرق سے جگہ ملی ہے۔ وہ آسام کے سابق وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ اس وقت مرکز میں وزیر ہیں۔ شمال مشرق میں بھی ان کا اثر و رسوخ ہے۔ اگلے سال شمال مشرقی کی کئی ریاستوں میں انتخابات ہوں گے، جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ پہلی بار نارتھ ایسٹ سے کسی شخص کو پارلیمانی بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
 سشما سوراج کی موت کے بعد بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ میں خواتین کی کمی تھی۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے بی جے پی نے سدھا یادو کو شامل کیا ہے، جن کا تعلق ہریانہ سے ہے۔ سدھا یادو او بی سی سے آتی ہیں۔ بی جے پی کا نشانہ پورے ملک کے او بی سی پر ہے۔
اس کے پیش نظر سدھا یادو کو پارلیمانی بورڈ میں جگہ ملی ہے۔ یہی نہیں بلکہ سدھا یادو کارگل کے شہید کی بیوی ہیں۔ اس کے لیے بی جے پی کی جانب سے فوجی خاندانوں کو بھی بڑا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ سدھا یادو اٹل بہاری واجپائی حکومت کے دور میں رکن پارلیمنٹ رہ چکی ہیں