یہ آزادی رب کائنات کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے: مفتی محمد ثاقب

تازہ خبر قومی
دیوبند، 17؍ اگست
(رضوان سلمانی) 
یوم آزادی کے موقع پر مدارس اور اسکولوں میں تقریبات کا سلسلہ جاری ہے ، اسی تناظر میں ادارہ معین الحق وخانقاہ قادریہ مجددیہ معینیہ نودھرانی مالیر کوٹلہ میں یوم آزادی کے موقع پرایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کا آغاز ادارہ کے استاذ قاری محمد جنید کی تلاوت قرآن پاک سے اور نعت نبی ادارہ کے ہی ایک طالب علم نے پڑھی، اس موقع پر ادارہ کے مہتمم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم سب کو آپس میں مل جل کر رہنے کی ضرورت ہے، اسی سے ملک ترقی یافتہ ہوسکتا ہے ۔
 انہو ں نے کہا کہ پوری انسانیت اللہ کی مخلوق ہے ہم سب کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی کا معاملہ کریں، ملک کو ہر قسم کی بد امنی اور شریر کی شرارتوں سے بچائیں۔ پروگرام کے مہمان خصوصی مفتی محمد ثاقب قاسمی نے اپنے خطاب میںکہا کہ دو سو سال کی مسلسل جد وجہد اور جانفشانی کے بعد ہم اپنے ملک میں آزادی کے ساتھ سانس لے رہے ہیں، یہ آزادی رب کائنات کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
 انہوں نے کہا کہ مجاہدین آزادی اور اکابرین کی طویل قربانیوں اور جدوجہد کے بعد ہندوستان کو آزادی کی دولت نصیب ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی لڑائی میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی تمام مذاہب کے لوگوں نے متحد ہوکر شرکت کی جس کے بعد انگریزوں کو بھارت چھوڑنا پڑا۔ آج بھی بھارت کے تمام مذاہب، نسل ذات اور علاقہ کے لوگوں کے درمیان اسی طرح کے اتحاد کی ضرورت ہے،
 اس موقع پر یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بھارت میں انگریزوں کی آمد، ایسٹ انڈیا کمپنی، برطانیہ کی حکومت اور اس دور میں ہوئے مظالم کی تفصیلات کو اپنی نئی نسل کو ضرور بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کی آزادی کے لئے مسلمانوں کا بھی بہت بڑا کردار ہے خاص کر ہمارے اسلاف، قائدین اور علمائے کرام کی بے شمار قربانیوں کے بعد وطن آزاد ہوا، لاکھوں مسلمان اور ہزاروں علماء پھانسی کے پھندے پر لٹکائے گئے، جیلوں میں ڈالے گئے لیکن آزادی کی صف سے پیچھے نہ ہٹے، حالیہ دنوں میں کچھ لوگ اس آزادی کی دولت کو سلب کرنا چاہتے ہیں جس کو برقرار رکھنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔
آخر میں صوفی مولانا محفوظ الرحمن کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا، اس موقع پر مولانا محمد صداقت،ماسٹر محمد عمران، محمد طاہر، محمد کبیر، ڈاکٹر محمد لیاقت، محمد عارف، بشیر محمد، ہیپی، ماسٹر ہرجیت، انوار رانا، موہن خان، نعیم خان سمیت گاؤں نودھرانی اور شہر مالیر کوٹلہ کے معزز حضرات نے شرکت کی۔ جامعہ عربیہ قاسم العلوم اور جامعہ عائشہ للبنات کاندھلہ میں بھی یوم آزادی کے موقع پر تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر بابو فیصل بیگ نے آزادی کو بہت بڑی نعمت بتاتے ہوئے کہا کہ آزادی کی قدر ان سے پوچھو جو اس سے محروم ہیں، جس وقت ہمارے ملک کے باشندے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اس وقت ہمارے اکابرین نے ملک کی آزادی کی تحریک شروع کی اور جانی ومالی قربانیاں پیش کیں۔
 نجم الاسلام کاندھلوی نے کہا کہ ہمارے ملک کو بزرگوں نے جس اتحاد ویکجہتی کے ساتھ آزاد کرایا ہے ہم اسی اتحاد اور یک جہتی کو عملی طو رپر اپنی زندگیوں میں نافذ کریں ۔ سید بدرالہدیٰ قاسمی نے کہا کہ 15اگست 1947کو ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے مکمل طورپر آزاد ہوا تھا جس کی آزادی کے پیچھے ہمارے ملک کے بے شمار آزادی پسندوں کا اہم کردار ہے جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
ایسے تمام آزادی پسندوں کی بے لوث حب الوطنی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ سید مظہرالہدیٰ نے کہا کہ اس ملک کو آزاد کرانے میں ہمارے اکابرین نے جو قربانیاں پیش کی ہیں انہیں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مولانا نے کہا کہ ہم کو چاہئے کہ موجودہ وقت میں تعلیم کو عام کریں اور بچوں کی اچھی تربیت کرکے انہیں ایک بہترین انسان بنائیں۔ اس موقع پر محمد رضوان، مولانا یوسف، قاری معاذ ہاشمی، صبیحہ، فرمانہ وغیرہ موجود رہے۔
 اُدھر مرکزالمعارف پرائمری اسکول میں بھی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جہاں بچوں نے ثقافتی پروگرام پیش کئے۔ اس موقع پر اسکول کے روح رواں حافظ اطہر عثمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو آزاد کرانے میں برادران وطن کے ساتھ ساتھ ہمارے اکابر وعلماء نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انگریزوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا اس لئے اس کی حفاظت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔
 انہوں نے بچوں کو ملک کی تعمیر وترقی اور مضبوطی وخوشحالی کے لئے منفرد کردار ادا کرنے کے لئے تیاری کی تلقین کی۔ اس موقع پرخورشیدہ خاتون ، پرنسپل عفت فاطمہ، نشاط فاطمہ ، بریرہ جمال سمیت اسکول اسٹاف موجود رہا۔