معصوم کی عصمت ریزی وقتل۔23دن میں سزائے موت

تازہ خبر قومی

غازی آباد21؍جنوری
نیوز زین
جب بھی کہیں عصمت ریزی کےواقعات رونما ہوتے ہیں اور مقدمات درج کیے جاتے ہیں تو فیصلہ آنے وقت میں لگتا ہے بیشترکے مقدمات فیصلے صادر ہونے میں تو برسوں لگ جاتے ہیں لیکن غازی آباد کی ایک مقدمہ عدالت میں پیش ہونے کے اندرون 32 دن ملزم پر جرم ثابت ہونے پر فاضل جج نے سزائے موت کا فیصلہ صادرکیا۔ یہ واقع اترپردیش کے غازی آبادکے علاقے کوی نگر کا ہےجہاں ایک ڈھائی سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کے بعدوحشیانہ انداز میں قتل کی واردات پیش آئی۔تفصیلات کے مطابق کوی نگر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے 21 اکتوبر 2020 کو پولیس میں یہ شکایت درج کروائی تھی کہ اسکی ڈھائی سالہ معصوم کی عصمت ریزی کے بعد قتل کی واردات پیش آئی پولیس نے شکایت وصول ہونے کے اندروں دیڑھ دن خاطی کا پتہ چلایا ۔دوران تفتیش خاطی نے اپنے جرم کااعتراف کیا پولیس نے بتایا کہ ملزم لڑکی کے والد کا دوست ہی نکلا جس کو گرفتار کرنے کے بعد ریمانڈ میں دیدیا گیا جسے جیل منتقل کیا گیا ۔سال گذشتہ 29 دسمبر کو پولیس نے فرد جرام عاداخل کیا پولیس نے فورنسک رپورٹس اور دیگر ٹھوس شواہد کے ساتھ فسوکو عدالت میں پیش کیا عدالت میں فریقن کے دلائل کی سماعت بعد ثبوتوں و شواہد کے بنیاد پر ملزم کو مجرم قرار دیتے ہوئےاندرون 32دن حتمی فیصلہ صادر کرتے ہوئے پروانہ موت کی سزاء سنائی۔ملک کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کسی عدالت نے اتنے کم وقت میں مقدمہ کی سماعت کی اور فیصلہ سنائی ہو۔