مذاہب کے نام خداؤں کی تقسیم

تازہ خبر تلنگانہ

تلنگانہ کے وزیر کے ٹی آر کی شدید برہمی،مذہبی منافرت پیدا کرنے والوں پر تنقید

حیدرآباد28/اگست
(زین نیوز )
ور کنگ صدر ٹی آرایس پارٹی مسٹر کے ٹی راما راؤ نے بالواسطہ طور پران قائدین پر تنقید کی جو ملک اور ریاست میں مذہبی منافرت پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کس خدا نے کہا کہ آپس دست بہ گریباں ہوکر مر میں اور ایک دوسر ے مذاہب کی توہین کر میں یا اسے نیچا دکھانے کی کوشیش کر یں۔

کے ٹی آر اور وزیر تعلیم مسز سبیتا اندرا ریڈی نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی ، حیدرآباد میں مسابقتی امتحانات کے مطالعاتی مواد جاری کیا ہے

اس موقع پر کے ٹی آر نے کہا کہ انہیں یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ ایسا کونسا مذہب ہے جو خدا کو نہیں مانتا؟ مذاہب کے نام خداؤوں کی تقسیم نا قابل فہم ہے کیوں کہ سب کا خدا ایک ہے چاہے انہیں الگ الگ ناموں کیوں نہ پکارا جاۓ ۔

تمام مذاہب انسانیت تعلیم دیتے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ آپس میں جھگڑتے ہوۓ مر مٹنے کا کرشنا رام یسوع مسیح یا اللہ نے حکم دیا ہے؟ کہ میں اس سرزمین پر اپنے لوگوں کو بھیج رہا ہوں اور وہ ایک دوسرے کے لئے لڑ جھگڑ کر مر میں ۔
انہوں نے کہا کہ ایسا جھگڑا بھی نہ کر میں کہ جس کا خدا بڑا ہے۔ یہ کہتے ہوئی کے ٹی آر نے سوالات کی بارش کر دی ۔

انہوں نے کہا ہم کیوں لڑ رہے ہیں ہم کس کیلئے لڑ رہے ہیں؟ ہم کو کس چیز پر توجہ دینی چاہئے؟ اگر کوئی اس لئے رورہا ہے کہ اس ملک میں پانی نہیں ہے، اگر کھانے یا موت نہیں ہے، اگر ہندوستان کے صدر دروپدی مرمو کے گھر پر کل یا پرسوں بجلی آتی ہے تو ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں۔

اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں کہوں گا کہ میری ماں عظیم ہے۔ کس کی ماں سب سے بڑی ہے کا مقابلہ کیا معنی رکھتا ہے؟ ہم مذاہب کے نام پر کہاں سے کہا جا رہے ہیں۔ چین کو 16 ٹریلین ڈالر تک پانچ گیا اور ہم ہیں کہ تقریبا . 3 ٹریلین ڈالر پر رک گئے ہیں۔
یہ ایک شرمناک صورتحال ہے ۔لیکن تلنگانہ ریاست مختلف طریقہ سے کام کرتی ہے۔ گزشتہ 8 سالوں میں تلنگانہ کی کامیابیوں کو، فنڈس کے لحاظ سے، ایک لفظ میں میں اس لئے کہتا ہوں کہ آپ ذہین انسان ہیں۔ ہندوستان کی 140 کروڑ آبادی میں سے ہم صرف 4 کروڑ ہیں۔ ملک بچی ڈی پی میں 5 فیصد ہماری شراکت داری ہے جس کو ہم ادا کر رہے ہیں ۔

کے ٹی آر نے واضح کیا کہ اس کا مطلب ترقی ہے۔