دیوبند،5؍ ستمبر
(رضوان سلمانی)آل انڈیا ملی کونسل شعبہ دینی تعلیم کل ہند کے سکریٹری مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب لفظ اقرا سے نبوت کا آغاز ہوا تو آپ ﷺ کی ذات گرامی تمام انسانوں کے لیے نمونہ قرار پائی اور آپ ﷺنے‘‘انما بعثت معلما(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے) کے ذریعے اپنا مقام واضح کر دیا۔
انہو ںنے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت کا جو صد فیصد نتیجہ دنیا نے دیکھا ہے، تاریخ انسانیت کے کسی اور معلم کے یہاں اس کی نظیر نہیں ملتی، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت کا حیرت انگیز کرشمہ تھا کہ محض 23 سال کی مختصر مدت میں صحرائے عرب کے جو وحشی علم و معرفت اور تہذیب و تمدن سے بالکل کورے تھے وہ پوری دنیا میں علم و حکمت اور تہذیب وشائستگی کے چراغ روشن کرتے ہیں۔
انہو ںنے کہا کہ اس وقت ان تہذیب و تمدن سے عاری انسانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ایک صبر آزما کام تھا۔ مگر آپ ﷺ نے تعلیم کے جو اصول اور جو تکنیک استعمال کی، وہ آج بھی عین حق ہیں، جن کے بنا سیکھنے سکھانے کا عمل مکمل نہیں ہوتا۔
مولانا عبدالمالک مغیثی نے کہا کہ آج وطن عزیز میں یوم اساتذہ کے اس موقع پر ہمیں جاننا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وتر بیت کی وہ کیا بنیادی خصوصیات تھیں جنہوں نے دنیا بھر میں یہ حیرت انگیز انقلاب برپا کر دیا تھا