لڑکی کے اغوا اور زبردستی شادی کی شکایت۔ لوجہاد کا الزام۔ڈی سی پی کے ساتھ بحث و تکرار
ممبئی: 7؍ستمبر
(زیڈ این ایم ایس)
امراوتی شہر میں ایک اور بین المذاہب شادی کے معاملہ کے بعد ہندو تنظیمیں اشتعال میں آ گئیں۔بین المذاہب شادی میں مبینہ طور پر لڑکی کے اغوا کا الزام عائد کرتے ہوئے امراوتی کی رکن پارلیمنٹ نونیت رانا ہندو تنظیم کے کارکنوں کے ساتھ سیدھے راجا پیٹھ پولیس اسٹیشن میں داخل ہوئیں ہنگامہ اور بدتمیزی کرتے ہوئے نظر آئیں۔اس وقت اس جگہ پر کشیدگی کا ماحول ہے اور پولیس اسٹیشن پر بڑی بھیڑ جمع ہوگئی ہے۔
امراوتی کے ایم پی نونیت رانا اور پولیس حکام کے درمیان بدھ کے روز اس کی فون کال ریکارڈ کرنے کے معاملے پر گرما گرم بحث و تکرار ہوئی ۔ یہ واقعہ دوپہر 12 بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب رانا نے ایک ہندو تنظیم کے ارکان کے ساتھ ایک ہندو لڑکی کے اغوا اور ایک مسلم لڑکے سے زبردستی شادی کی شکایت لے کر راجاپٹھ پولیس سے رجوع کیا
#Amravati | #NavneetRana raided police station! Navneet Rana under fire in love jihad case..#Amravati #NavneetRana #lovejihad pic.twitter.com/nnFJCgOpxR
— Global_TazaNews (@Global_TazaNews) September 7, 2022
مہاراشٹر کے امراوتی میں ایک ہندو لڑکی کو ایک مسلمان لڑکے کی طرف سے بھگا کر شادی کی کوشش کرنے کے معاملے میں تھانے میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ امراوتی کے ایم پی نونیت رانا نے پولیس اسٹیشن میں متاثرہ کے اہل خانہ کے ساتھ ہنگامہ کھڑا کردیا۔ جب نونیت رانا راجاپٹھ تھانے پہنچے تو وہاں موجود پولیس انسپکٹر منیش ٹھاکرے اور ڈی سی پی کے ساتھ ان کی بحث و تکرار بھی کی۔ اور لڑکی کو واپس لانے کا مطالبہ کیا۔اس دوران رانا نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ان کی کال ریکارڈ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔۔ جب میں نے پولیس کو یہ پوچھنے کے لیے فون کیا کہ تفتیش کہاں تک پہنچی ہے تو میری کال ریکارڈ کر لی گئی۔
نونیت کا الزام ہے کہ لوجہاد کیس کی شکایت کے دوران اس نے پولیس والے کو فون کیا تھا اور اس نے اس کا فون ریکارڈ کر لیا تھا۔ انہوں نے غصہ میں افسر سے پوچھاکہ ریکارڈنگ کا حق کس نے دیا؟
رانا کا کہنا ہے کہ یہ لو جہاد کا معاملہ ہے۔ اس میں ایک مخصوص مذہب کے لڑکے نے لڑکی کو بھگا کر لے گیاہے۔ اگر لڑکی کو بحفاظت واپس نہ لایا گیا تو وہ پیچھے نہیں ہٹے گی۔۔انہوں نے لڑکے پر الزام لگایا کہ وہ لڑکی کو بھگاکر شادی کی اور اپنے پاس رکھا۔ اس معاملہ میں پیاز اور آلو بیچنے والے ایک نوجوان کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔
رانا نے کہاکہ رات سے تحقیقات کر رہے ہیں لیکن کچھ سامنے نہیں آ رہا ہے۔ لیکن لڑکی کہاں ہے اس بارے
میں کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ہے۔ اس لڑکے کے گھر والوں کو یہاں لے آؤ، ایک گھنٹے میں سب کچھ ہو جائے گا۔لڑکی کے والدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی ساڑھے 12 بجے بینک گئی۔ لیکن بعد میں اس کا فون بند ہو گیا۔ لڑکی کے والدین کا کہنا تھا کہ لڑکا کبھی ہمارے گھر نہیں آیا۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایک مخصوص مذہب کے نوجوان ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنساتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ بچوں کو جنم دیتے ہیں۔ اس کے بعد جسم فروشی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ رانا نے کہا کہ اگر قصور وار نوجوان کو تھانے لایا گیا ہے تو اس کے گھر والوں کو کیوں نہیں بلایا گیا
رانا نے بتایا کہ لڑکی کے والدین میرے پاس شکایت لے کر آئے تھے کہ انہوں نے لڑکی کو اندھیرے میں رکھ کر شادی کی ہے۔ میں نے اس حوالے سے تھانے میں فون کیا تو پولیس نے میرا فون ریکارڈ کر لیا، انہیں میری کال ریکارڈ کرنے کا حق کس نے دیا۔ لڑکی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
اس کے بعد نونیت رانا نے تھانے کے باہر میڈیا سے بات چیت کی۔ ہم پسماندہ طبقے کے ہیں اس لیے پولیس ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے۔ جس کی بیٹی لاپتہ ہے وہ خاندان کل سے رو رہا ہے۔ نونیت رانا نے کہا کہ میں نے پولیس کو الٹی میٹم دیا ہے کہ ہماری بیٹی کو دو گھنٹے میں واپس لایا جائے۔
واضح رہے کہ نونیت رانا ماضی میں ہنومان چالیسہ کا بھجن کو لے کر خبروں میں رہے تھے۔ انہوں نے اس معاملے کو لے کر ادھو حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا تھا۔ ہنومان چالیسہ تنازعہ میں ایم پی نونیت رانا اور ان کے شوہر روی رانا کو ممبئی پولیس نے مشروط ضمانت دے دی ہے۔
لیکن پولیس نے بعد میں کہا کہ رانا جوڑے نے شرط کی خلاف ورزی کی۔ اس لیے ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا جائے۔ اس معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ نے امراوتی کے ایم پی نونیت رانا اور ان کے ایم ایل اے شوہر روی رانا کی ضمانت منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
عدالت نے کہا تھا کہ ضمانت صرف خاص حالات میں منسوخ کی جا سکتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ضمانت کی منسوخی پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ خصوصی جج راہول روکڑے نے سماعت کرتے ہوئے ممبئی پولیس کی درخواست کو مسترد کر دیا جس میں نونیت رانا اور اس کے شوہر روی کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔