مدارس کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کے اسکولوں کی بھی جانچ اور سروے کرایا جائے 

تازہ خبر قومی
راشٹروادی سینا نے ایس ڈی ایم کی معرفت صدر جمہوریہ کو ارسال کیا میمورنڈم 
دیوبند،8؍ستمبر
(رضوان سلمانی)
ریاست اترپردیش کی یوگی حکومت کے ذریعہ مدرسوں کا سروے کرائے جانے کے معاملہ کو لیکر راشٹروادی سینا نے بھی اسے ایک طرفہ کارروائی بتاتے ہوئے آر ایس ایس اور سبھی مذاہب کے تعلیمی اداروں کی جانچ اور سروے کرائے کے تعلق سے ایک میمورنڈم صدر جمہوریہ ہند کو ایس ڈی ایم دیوبند کی معرفت ارسال کیا ۔
آج راشٹر وادی سینا کے صدر چودھری وریندر سنگھ گوجر کی قیادت میں کارکنان ایس ڈی ایم دفتر پہنچے اور وہاں پر انہوں نے ایس ڈی ایم دیوبند دیپک کما ر کی معرفت ایک میمورنڈم صدر جمہوریہ کو ارسال کیا ۔میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ اترپردیش حکومت کے ذریعہ غیر منظور شدہ مدارس کے سروے کرائے جانے اور مدارس میں ہورہی سرگرمیوں کی تصدیق کرانے کے لئے احکامات دئیے گئے ہیں جو پورے طریقہ سے قومی مفاد اور بچوں کے مستقبل کے لئے صحیح ہے۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ مگر ایک طرفہ کارروائی تنازعہ کا سبب بن چکی ہے جو قومی مفاد میں نہیں ہے اور اس احکامات کا دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے مخالفت کی بھی کی جارہی ہے اور اس سلسلہ میں 24ستمبر کو دارالعلوم دیوبند میں ایک نمائندہ اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے اسلئے دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدارس کے ساتھ ساتھ سناتن دھرم ،عیسائی مذہب،جین مذہب،سکھ مذہب،بودھ مذہب اور آر ایس ایس کے ذریعہ چلائی جارہے
تعلیمی اداروں کا بھی سروے اور جانچ کرایا جانا ضرو ری ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ مدارس ،گرو کل،اسکول،کالج،مٹھوںاور دیگر تعلیمی اداروں میں بچوں کو ملک کے خلاف مذہبی کٹرپن کا سبق تو نہیں پڑھایا جارہا ہے جو ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو کوئی خطرہ ہو ۔میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے قانون میں سبھی مذاہب کو برابر کا حق دیا گیا ہے مگر جاتی دھرم سے اوپر ہندوستان سب سے اوپر ہے ۔
میمورنڈم میں مدارس کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے تعلیمی اداروں اور آر ایس ایس کے اسکول وکالجوں کا بھی سروے اور جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔میمورنڈم دینے والوں میں چودھری وریندر سنگھ گوجر ،ورشٹھ گوجر سندیپ کمار،کلدیپ کمار،مانچن پردھان ،جوکیندر،راج پال وغیرہ موجود رہے ۔