چورا خورد میں منعقدہ کسانوں کی مہا پنچایت سے چودھری راکیش ٹکیت کا اظہار خیال
دیوبند،8؍ستمبر
(رضوان سلمانی)بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان چودھری راکیش ٹکیت نے کہا کہ حکومت کی نظریں کسانوں کی زمینوں پر ہی نہیں بلکہ رہڑی ،ٹھیلی اور چھوٹے دوکانداروں کے کاروبار پر بھی ہے ۔وہ اڈانی ،امبانی کی معرفت ملک میں کمپنی راج لانا چاہتی ہے جس کو روکنے کے لئے کسان بڑی تحریک کے لئے تیار رہیں یہ نسل اور فصل کو بچانے کی لڑائی ہے زمین اور ضمیر کو بچانا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ مقابلہ سخت رہے گا کسان اپنے ٹریکٹروں پر بمپر لگوانے تاکہ ان کا استعمال ٹینکوں کی طرح کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک مرتبہ پھر سے بڑی تحریک کی جانب سے کسانوں کو اپنے مسائل کے حل کے لئے متحد ہوکر تحریک شروع کرنی ہوگی ۔ان خیالات کا اظہار راکیش ٹکیت نے چورا خورد میں منعقدہ کسانوں کی مہا پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہی اور ساتھ ہی انہوں نے حسب اختلاف کو بھی کمزور قراردیا ۔راکیش ٹکیت نے کہا کہ مجھے اپوزیشن پر یقین نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی بات مضبوطی کے ساتھ نہیں کہہ پارہا ہے ایسے میں کسانوں کو اپنے وجود کی لڑائی خود لڑنی ہوگی ۔ٹکیت نے کہا کہ ریاست بہار میں گزشتہ 17سال کے اندر وہاں کا کسان مزدور بن گیا وہاں کی زمینوں پر اڈانی اور امبانی کا قبضہ ہے ۔
حکومت اترپردیش اور مدھیہ پردیش میں منڈیوں کو بند کرنے کی سازش رچ رہی ہے تاکہ وہاں کی خالی زمین کے پتوں کی تقسیم آر ایس ایس کے لوگوں کو کرسکے۔ایف سی آئی کے گودام پہلے ہی اڈانی کو دئیے جاچکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایم ایس پی کو ختم کرانا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سینکت کسان مورچہ کے لیڈران جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک بھر میں جاکر مرکزی حکومت کی سازشوں کے تئیں کسانوں کو بیدار کررہے ہیں اور جلد ہی ملک میں بڑی تحریک مورچہ کی جانب سے شروع کی جارہی ہے جس کا وقت اور مقام جلد ہی بتا دیا جائے گا ۔
راکیش ٹکیت نے کہا کہ حکومت دودھ کی پالیسی لارہی ہے پہلے 22روپے لیٹر دودھ کی فروختگی کرکے ہمارے مویشیوں کو ختم کیا جائے گا۔جب کسانوں کے پاس مویشی نہیں رہیں گے تو اس کے بعد اپنی مرضی سے دودھ فروخت کریں گے ۔راکیش ٹکیت نے مرکزی وزیر داخلہ اجے ٹونی پر کارروائی نہ ہونے کو لیکر بھی مرکزی حکومت کو ہد ف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ٹونی کے آدمی دہشت پھیلانے کے لئے لکھیم پور میں سکھوں کے ڈیروں پر چوریاں اور فائرنگ کررہے ہیں لیکن کسان اس سے خوفزدہ ہونے والا نہیں ہے ۔
راکیش ٹکیت نے تنظیم کو مضبوط کرنے کے لئے ممبر سازی تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر گھر سے جذباتی رشتہ قائم کرنے کے لئے دس دس روپے کی ممبر سازی گاؤں میں کی جائے ۔خواتین کو بھی تنظیم سے جوڑیں اور اس کی شروعات کارکنان اپنے اپنے گھروں سے کریں ۔انہوں نے کہا کہ ریڑی ،ٹھیلی والوں اور چھوٹے دوکانداروں کو بھی یونین سے جوڑا جائے ۔
ضلع ہیڈ کواٹر پر ہونے والی مہانا پنچایت بھی اب بڑے گاؤں میں کی جائے تاکہ ہر گاؤں اور ہر گھر تک بھارتیہ کسان یونین کی پہنچ بن سکے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت بھارتیہ کسان یونین کی تحریکوں میں حصہ لینے والے کسانوں اور ان کے بچوں کا استحصال کررہی ہے جو دیگر پیشہ سے جڑے ہوئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بی جے پی میں شامل ہوجاتا ہے تو اسے حکومت کے استحصال سے آزادی مل جاتی ہے ۔اس تانہ شاہی کو جواب دینے کے لئے ہمیں متحد ہونا ہوگا اگنی ویر اسکیم کے نام پر ٹھگے جارہے نوجوانوں کو بھی ساتھ لاکر اپنی طاقت میں اضافہ کرنا ہوگا۔مہا پنچایت میں شوگر فیکٹریوں کے ذریعہ گنے کی ادائیگی نہ کرنے پر ٹوویل سامان کی ہورہی چوریوں ،بجلی کٹوتی ،بجلی افسران کی بد عنوانی پالیسی،ہنڈن ندی میں پانی ہونے کے مسائل پنچایت می زور شور سے اٹھائے گئے ۔
اس موقع پر راجبیر سنگھ کو کمشنری کا جنرل سکریٹری ،راؤ نوشاد کو ریاستی سکریٹری ،پرنس چودھری کو مغربی اترپردیش کا جوائنٹ سکریٹری منتخب کیا گیا ہے ۔اس موقع پر بڑی تعداد میں علاقہ کے کسان موجود رہے ۔