(زین نیوز)
تلنگانہ میں گنیش وسرجن کے موقع پر چیف منسٹرآسام ہیمنتا بسوانتا شرما شہر پہنچے۔مگرمعظم جاہی مارکیٹ میں کشیدگی کا ماحول رہا۔ ٹی آر ایس قائدین نے چیف منسٹرآسام کی تقریر کو روکنے کی کوشش کی جب انہوں نے بھگوان کی تعلیمات کے بجاۓ معظم جاہی مارکیٹ حیدرآباد پر گنیش بھگتوں کے خیرمقدمی اسٹیج سے وزیر اعلیٰ تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ٹی آر ایس پارٹی پر تنقید کی۔جس کے بعد ہلکی سی کشیدگی پھیل گئی
چیف منسٹرآسام ہیمنتا بسوانتا شرما تقریر کر رہے تھے تو ٹی آر ایس لیڈر نندو کیشور نے تقریر روکنے کی کوشش کی اور آسام کے سی ایم سے مائیک چھین لیا۔ اپنی تقریر میں سی ایم نے ٹی آر ایس اور کے سی آر حکومت پر سخت تبصرہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی بلال جلسہ کے اسٹیج پر آگئے اور مائیک پکڑ لیا۔ اس سے ٹی آر ایس اور بی جے پی قائدین کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔
پولیس نے نندو کیشور کو فوراً وہاں سے ہٹادیاگیا۔جس کی وجہ سے ٹی آر ایس قائدین اور کارکنان بڑی تعداد میں وہاں پہنچ گئے۔ انہیں بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔اس موقع پر حضور آباد کے بی جے پی ایم ایل اے ایٹالہ راجندر نے میڈیا کو بتایا کہ ٹی آر ایس قائدین کا کوئی کلچر نہیں ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہمانتا بسوا سرما اسٹیج پر تھے اور جلوس سے خطاب کرنے والے تھے۔ وزیراعلیٰ آسام کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ تاہم یہ واقعہ گروپوں کے درمیان ہاتھا پائی کا باعث بنا۔
انہوں نے کہاکہ چیف منسٹرآسام ہیمنتا بسوانتا شرما کی تقریر روکنا شرم کی بات ہے اوریہ بزدلانہ حرکت ہے۔ یہ کوئی بڑا جرات مندانہ اقدام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب پولیس کی نظر میں ہوا ہے۔
واضح رہے کہ بسوا سرما گنیش مورتی وسرجن شوبھایاترا میں مہمان خصوصی کے طور پر شہر میں تھے ۔ انہیں بھاگیہ نگر گنیش اتسو سمیتی نے مدعو کیا تھا۔
ٹی آر ایس لیڈر نندو کیشور جنھوں نے چیف منسٹرآسام ہیمنتا بسوانتا شرما کی تقریر کے دوران مائیک چھین لیا بعد ازاں صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ معظم جاہی کی پر حکومت تلنگانہ کی جانب سے کیے گئے انتظامات میں حکومت کا بیانر ہٹادیا گیا اور آسام سے آے ہوئے ایک سی ایم نے چندر شیکھر راؤ اور مجلس کو کتا کہا ہے کیا اسطرح کہنا درست ہے؟۔ کیا اسطرح کہنے پر ہمیں خاموشی اختیار کرنا چاہیے‘ تم یہاں کیوں آئے ہو۔
آپ آئے ہیں تو گینش وسرجن کے تعلق سے بات کریں لیکن ہمارے سی ایم کو گالیاں بکیں نہ دیں بی جے پی والوں کو عادت ہوگئی ہے کہ وہ کے سی آر‘ کے ٹی آر ‘ کویتا‘ کو گالیاں دیتے رہیں گے۔بی جے پی والے‘ بھاگیہ نگر گنیش سمیتی والے حیدرآباد میں گڑبڑ مچانا چارہے ہیں مذہبی منافرت پھیلانا چارہے ہیں۔
فالتو فالتو لوگوں کو باہر سے بلانا اور ہماری گورنمنٹ کو گالیاں دینا ‘ جبکہ گنیش وسرجن کے تمام انتظامات تلنگانہ سرکار نے کیے ہیں‘ مائیک‘ اسٹیج‘ سب حکومت کی جانب سے لگائے گئے ہیں حکومت اور پولیس کو گالیاں دی جارہی ہیں
میں بی جے پی والوں کو وارننگ دے رہا ہوں آپ سدھر جاؤ حیدرآباد کے اچھے ماحول کو خراب مت کرو۔آنیوالے دنوں میں اگر کوئی بھی ہمارے سی ایم کے سی آر ‘ کے ٹی آر ‘ اور کویتا کو بلاوجہ گالیاں دے گا ہم برداشت کرنے والے نہیں ہیں۔
آپ کو بات کرنا ہے تو ترقی پر بات کرو کسی موضوع پر بات کرو لیکن مذہبی پروگرام میں اسطرح کی بات نہ کریں میں نے اعتراض جتایا اور چیف منسٹرآسام ہیمنتا بسوانتا شرما کو کہا کہ تم اس طرح نہیں بول سکتے تمہیں کوئی اختیار نہیں ہے ہمارے سی ایم کو گالیاں دینے کا اور آپ یہاں سے چلے جائیں
