قواعد کی خلاف ورزی پر کارروائی کی وزیر داخلہ کی ہدایت
حیدرآباد 15/ستمبر
(پریس نوٹ)
ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے جمعرات کو اپنے دفتر واقع لکڑی پل میں سکندر آباد کے روبی ہوٹل میں پیش آئے حادثہ پر ایک اعلی سطحی اجلاس طلب کیا. جس میں محکمہ داخلہ کے پرنسپال سکریٹری روی گپتا، جی ایچ ایم سی کمشنر لوکیش کمار، ڈی جی، فائر سروسز سنجے جین، فائر سروسز کے ڈائریکٹر لکشمی پرساد اور ریجنل فائر عہدیداران موجود تھے
اس موقع پر عہدیداران نے وزیر داخلہ کو وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سکندرآباد میں پیش آیا واقعہ کمرشیل ہے جہاں پر عوام کی کثیر تعداد میں آمد و رفت ہوتی ہےعمارتوں کے سیلار میں پارکنگ کی اجازت دی گئی ہے، مگر اکثر کاروباری لوگ سیلار میں خود کا کاروبار کررہے ہیں یا کسی دوسرے کو کرایہ پر دئے ہیں جس کو کاروبار کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، دونوں صورتوں میں سیلار کا غیر قانونی طور پر کاروبار کے لیے استعمال کیا جارہا ہے
افسران نے کہا کہ تجارتی علاقوں کے علاوہ بہت سے رہائشی علاقوں کے سیلار میں بھی اسی طرح کے غیرقانونی طور پر کاروبار چلائے جار ہے ہیں . جس سے فائر سیفٹی اصولوں کی خلاف ورزی ہورہی ہے. آگے کہا کہ سیلار میں چلائے جارہے کاروبار پر روک لگانا اور مالکین پر قانونی کارروائی کرنا وقت کا تقاضہ ہے
فائیر افسران نے وزیر داخلہ کے علم میں لاتے ہوئے کہا کہ اکثر کاروباری اور رہائشی عمارتوں میں آگ پر قابو پانے کی جو مشینیں استعمال کی جارہی ہیں وہ کافی پرانی اور ناکارہ ہوچکی ہیں. ان کی جدید کاری بھی ضروری ہے ورنہ آتشی حادثات پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا. وزیر داخلہ محمد محمود علی نے تفصیلات حاصل کرنے کے بعد عہدیداران کو ہدایت دی کہ وہ چوکس رہیں اور اپنے خدمات کو بحسن خوبی انجام دیں
انہوں نے کہا کہ سکندر آباد میں واقع تمام عمارتوں کا جائزہ حاصل کرتے ہوئے ان عمارتوں کی نشاندہی کریں جہاں سیلار میں تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں تاکہ ان پر قانونی کارروائی کی جاسکے. وزیر موصوف نے افسران سے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں جلد ہی وزیر بلدیہ کلوا کنٹلا چندراشیکھر راؤ سےملاقات کرکے اس مسئلہ کا مستقل حل تلاش کریں گے
. آخر میں زیر علاج افراد کی حالت دریافت کی اور انہیں بہتر علاج فراہم کرنے پر زور دیا. جس پر عہدیداران نے اثبات میں جواب دیا