حیدرآباد : 22؍ستمبر
(زین نیوز)
یوپی حکومت کی جانب سے وقف املاک کے سروے کو ‘غیر ضروری’ قرار دیتے ہوئے،کل ہند مجلس اتحا د المسلمین کے سربراہ و رکن پارلیمنٹ حیدرآبا د بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اسے NRC (نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز) سے تشبیہ دی کیونکہ جمع کیے گئے ڈیٹا کا مستقبل میں کمیونٹی کے خلاف غلط استعمال ہوسکتا ہے۔
آج یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کہ وقف بورڈ کو بااختیار بنانے کے بجائے حکومت ان جائیدادوں پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔
"اگر جائیدادیں تجاوزات کے تحت ہیں، تو سنی اور شیعہ بورڈز کو ‘سمری بے دخلی کے اختیارات’ فراہم کیے جائیں۔ اس سروے سے ان کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔ بابری مسجد وقف جائیداد تھی لیکن ہم نے اسے کھو دیا۔ میرا ماننا ہے کہ یہ مشق اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت ان زمینوں کو چھیننا چاہتی ہے۔ اسے دشمنوں کی ملکیت کیوں سمجھا جائے؟‘‘
کرناٹک کے اسکولوں میں بھگواد گیتا کو متعارف کرانے کے منصوبے پر، انہوں نے آئین کے آرٹیکل 28 (1 اور 2) کا حوالہ دیا اور کہا کہ سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں مذہبی ہدایات پڑھانے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیتا، قرآن اور دیگر مذہبی کتابیں مذہبی ہیں، اس لیے یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔
