اصلاح معاشرہ انبیاء کرام علیھم السلام کامشن ہے۔مولانا محمد یامین قاسمی مبلغ دارالعلوم دیوبند

بین الریاستی تازہ خبر

مولانا محمد یامین قاسمی مبلغ دارالعلوم دیوبند کامکہ مسجد نظام آباد میں جلسہ اصلاح معاشرہ سے فکرانگیز خطاب
تلخیص عبدالقیوم شاکر القاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
قدمن اللہ علی المؤمنین اذبعث فیھم رسولا من انفسہم یتلواعلیھم
القرآن اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی ہدایت ورہبری کے لئےاس دنیا میں دوسلسلے جاری فرماے ہیں (1)ایک کتاب اللہ (2)دوسرے رجال اللہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے لےءلازم وملزوم بنایاگیا ایک کے بنا دوسرے سے ہدایت وراہنمای حاصل نہیں کی جاسکتی ہے اگر کوی محض قرآن کو لے اور خود سمجھنے کا دعوی کرے تو وہ گمراہ تو ہوسکتا ہے لیکن کبھی ہدایت یافتہ نہیں ہوگا اسی طرح اگر کوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو مانے ان کی تعلیمات کو اپناے لیکن قرآن سے روگردانی وبے اعتنای کرے تو وہ بھی صبح قیامت تک ضلالت کی وادیوں میں بھٹک جاءے گا کبھی ہدایت اور راہ راست کوحاصل نہیں کرپاے گا اللہ تعالی نے ہردور اورہرزمانہ کے لوگوں کی اور ان کے معاشرہ کی اصلاح کے لےء کتابوں کو نازل کیا اسی کے ساتھ ساتھ اس کتاب کو سمجھانے والے نبیوں کو بھی مبعوث فرمایا حضرت آدم سے لے کر نبی اکرم تک یہی سلسلہ جاعی رہا اب آپ کی رحلت کے بعد قرآن مجید تو باقی رہے گا لیکن اس کو سمجھانے کے لےء کوی نیا نبی آنے والا نہیں ہے مگر آپ کی امت کے وہ لوگ جن کو علماء کہا جاتاہے وہ اس کتاب کی تلاوت وتعلیم کی ذمہ داری کو سمبھالیں گے اسی وجہ سے ان کو العلماء ورثۃ الانبیاء کہا جاتا ہے کہ وہ انبیاء کے واث ہیں اور انبیاء اپنےء رواثت میں کوی مال ودولت یا جائیداد نہیں چھوڑے ہیں بلکہ ان کی وراثت علم ہوتی جس کے یہ علماء وارث بنتے ہیں اور نبیوں والاکام نبیوں کی ذمہ داری کو اس دنیا میں انجام دینے والے ہیں اور ہر نبی نے اپنے زمانہ کے معاشرہ کی خرابیوں اور برائیوں کی روک تھام ہی کے لےء اس دنیا میں تشریف لاتے تو معلوم ہوا کہ اصلاح معاشرہ انبیاءکرام کامشن ہے گذشتہ اقوام میں جن جن لوگوں پر اللہ کی جانب سے مختلف موقعوں پر عذاب آیا ہے وہ نماز نہ پڑھنے روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے نہیں آیا بلکہ ان کے معاشرہ کی خرابیوں یعنی ظلم وجور کا بڑھ جانا بندوں کے حقوق تلف کردینا پڑوسیوں کو ستانا شراب پینا جوا کھیلنا ان جیسی دسیوں خرابیاں ان میں موجودتھیں جن سب کا تعلق معاشرہ سے تھا حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں ناپ تول کی کمی والی خرابی آچکی تھی اللہ نے عذاب نازل کیا اور آپ نے نبی ہونے کی حیثیت سے سب سےپہلے اپنے معاشرہ کی اصلاح کے لےء اس برای پر روک لگای ان کو سمجھایا اور منع کیا اور یہ تعلیم دی کہ اوفواالکیل والمیزان بالقسطناپ تول میں عدل وانصاف سے کام لو بندوں پر دوقسم کے حقوق اللہ نے عائد کئے ہیں ایک حقوق اللہ دوسرے حقوق العباد اللہ کے حقوق میں اگرکبھی کسی بندہ سے کمی رہ جائے تو وہ غفوررحیم ہے معاف فرمادے گا لیکن بندوں کے حقوق میں اگر کمی رہ جاے تو اس کے بس دوہی راستے بتاے گےء ہیں یا تو وہ بندہ اپنے حق کو معاف کردے یا پھر اس کے حق کا بدلہ دیا جاء ے تیسراکوی راستہ نہیں ہے اور بندوں کی حق تلفیاں ہی معاشرہ کی خرابی ہے جس سے بچنے کی سخت تاکید کی گئ ہے بالکل اسی طرح حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کو جس دور میں مبعوث کیا گیا وہ زمانہ بھی معاشرتی برائیوں سے بھراہوا تھا اسی معاشرہ کی اصلاح کے لئے آپ کو بھی اس دنیا میں بھیجا گیا اور آپ کے مقاصد بعثت کو بتلاتے ہوے قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ معاشرہ کی اصلاح کےلئے بنیادی طور پر جن چیزوں کی ضرورت ہے وہتلاوت کتاب تعلیم کتاب تزکیہ نفس دانائ اور حکمت کی باتھےانہی اصولوں کو اپنا کر معاشرہ کی اصلاح بخوبی کی جاسکتی ہے آپ علیہ السلام کو جس دورمیں مبعوث کیا گیا اس دور میں شراب عام تھی جوا عام تھا بات بات پر قتل وغارت گری عام تھی ان سب کے باوجود کسی ایک گنا۹ سے اس دور کو موسوم نہیں کیا گیا کہ وہ دورشراب تھا یا دورقتل تھا بلکہ اس دورکو دورجاہلیت کے نام سے یادکیا گیا جس کامطلب یہ ہوا کہ جہالت کی وجہ سے اس زمانہ میں ہر قسم کی خرابی اور برائ عام تھی اور یہ سب برائیاں علم واقفیت وجانکاری کے مفقود ہونے کی بناءپرہورہی تھیں اسی لےء آپ علیہ السلام کی بعثت کے مقاصد کو بیان کرتے ہوے کہاکہ آپ تلاوت کتاب کریں تعلیم کتاب دیں لوگوں کے دلوں سے ہربرای کو نکال کر ان کا تزکیہ کریں اور ان کو حکمت ودانائ کی باتیں بتاکر ان میں علم کا نور اور روشنی پیداکردیں چنانچہ آپ نے علم کی شمع جلاکر اس معاشرہ میں پای جانے والی جہالت کی اندھیریوں کو ختم کیا جس کی وجہ سے ان میں اچھے اور برے کی تمیز پیدا ہوئ نیکی اور برائ کی پہچان آی نفع ونقصان کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوئ اور ایک صالح معاشرہ تشکیل پاگیا اور زمانہ کو کہنا پڑا جوخودنہ تھے راہ پر اوروں کے ہادی بن گئےاس لےء اصلاح معاشرہ کی تحریک کو انبیاء کرام کی تحریک اور مشن کہا جاتا ہے آج ضرورت اس بات کی ہیکہ جگہ جگہ مکاتب قرآنیہ شروع کےء جائیں مدارس کو پروان چڑھایا جاءے چونکہ یہی دینی واسلامی روح کے پاور ہاوس ہیں انہی کے رابطہ سے ہمارے دلوں میں روشنی آے گی انہی کی محنتوں سے جہالت کے اندھیرے روشنی کے مناروں میں تبدیل ہوں گے حضور علیہ السلام نے بھی اپنی بعثت کے بارے میں ارشاد فرمایا انمابعثت معلمامجھے معلم یعنی تعلیم دینے والابناکر بھیجاگیا ہے میں علم کی روشنی لے کر آیا ہوں جس سے جہالت دور ہوگی اور پھر انسان اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھ کر رب چاہی زندگی گزارےگا اور برائیوں کا خاتمہ ہوگا اور اس طرح ایک صالح معاشرہ وجود میں آئے گاآج دشمن سمجھ چکا ہیکہ ان مسلمانوں کو مکاتب ومدارس اور علماء سے دور کیا جاے توہی ان پر قابوپانا آسان ہوگا اسی وجہ سے1857 کی جنگ سےلے کر آج تک وہ اسی فکر میں لگاہوا ہے کہ کیسے ان کو مکاتب ومدارس اور علم کےپاور ہاوس سے الگ کیا جاے چنانچہ کبھی تو علماء کو پھانسی کے تختوں پر لٹکاکر کبھی مدارس کو دہشت گردی کے اڈے بتاکر کبھی نئ تعلیمی پالیسی کا بل پاس کرکے مسلمانوں کی نسلوں کے دین وایمان پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے تاکہ ان کی نسل دین وعلم دین سے دور ہوجاے اور ان پرآسانی سے اپنا شکنجہ کس لیا جاےاس لےء مسلمانوں کو ہوش میں آنا چاہیے اور خواب غفلت سے بیدار ہوکر جگہ جگہ مکاتب قرآنیہ قائم کرکے اور محلہ وار اصلاح معاشرہ کی کمیٹیاں تشکیل دے کر اپنے معاشرہ میں پھیلی ہوی برائیوں کا خاتمہ کرنا چاہیے مولانا سید ولی اللہ قاسمی علیہ الرحمہ اور ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوے مہمان مقرر نے فرمایا کہ میری اس شہر میں بار بار حاضری ہوی ہے لیکن آج شہر نظام آباد کی جس عظیم ترین شخصیت کے اخلا ق حسنہ جن کے دیدار اورجن کی کرم فرمائ وعزت افزائ اور والہانہ استقبال کو میں اپنے لئے باعثِ فخر سمجھتا تھا آج اس سے خود کو محروم پارہا ہوں وہ شفیق الملت حضرت مولانا سید ولی اللہ قاسمی علیہ الرحمہ تھے جو آج ہمارے درمیان اس دنیا میں نہیں ھیں مولانا مرحوم ایک خدارسیدہ وخداترسندہ بزرگ تھے گوناگوں خوبیوں کے مالک وہ جس سے ملتے خندہ پیشانی وکشادہ جبینی سے ملتے نہایت مثواضع ملنسار نرم طبعیت اور لینت مزاجی سے متصف تھے اللہ پاک ان کو غریق رحمت فرماکر اپنا قرب خاص نصیب فرماے یقنیا آج ان کی جدائ اور فرقت پر دل رنجور اور آنکھیں اشکبار ہیں جو ایک فطری احساس ہے اس دنیا میں جو بھی آیا وہ جانے کے لئے آیا گویا آنا ھی جانے کی دلیل ھے اس جہان فانی سے ہر ایک کو اپنے وقت مقررہ پر جانا ھے مولانا علیہ الرحمہ بھی اپنے وقت موعود پر رخصت ہوگئے ان شاء اللہ ہماری ا ن اصلاحی کاوشوں کا ضرور ان کو اجر ملے گا چونکہ یہ انہی کا لگایاہوا پودا ہے انہی کی دی ہوی فکریں ہیں جس پر ہم لوگ آج محنت کررہے ہیں سب انہی کا طفیل ہے اللہ پاک ان کی جملہ خدمات کو قبول ومنظور فرمائے اور ان کی سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائےاصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں جمعیۃ علماء ریاست تلنگانہ و آندھراپردیش جو کوششیں کر رھی ھےاللہ تعالیٰ انہیں قبول فرماکر مثمر ونتیجہ خیز فرمائے