پتھراؤ کرنے والے تمام ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے
صورتحال قابو میں ۔ ڈی ایس پی راجیش
احمدآباد:۔4؍اکتوبر
(زیڈ این ایم ایس)
گجرات کے دو شہروں میں پیر کو فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل گئی۔بتایا جاتا ہے کہ کھیڑا میں نوراتری تقریب پر پتھراؤ کیا گیا، جس میں نصف درجن لوگ زخمی ہوئے۔دوسری جانب وڈودرا کے ساولی قصبے میں بھی دونوں فریقین میں جھڑپ ہوئی۔یہاں بھی پتھراؤ کیا گیا اور کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق اس پورے معاملے میں پولیس نے اب تک 40 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ساتھ ہی اس معاملے میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کھیڑا کے ڈی ایس پی راجیش نے کہا کہ پتھراؤ کرنے والے تمام ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے اور اس معاملے میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے گاؤں میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔اب تک عارف اور ظہیر نامی دو افراد کے نام سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ان دونوں کی قیادت میں کچھ لوگوں نے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی۔
Gujarat | Stones pelted during Navratri celebrations in Kheda;6 people got injured
During Navratri celebrations in Undhela village last night, a group led by two people named Arif & Zahir started creating a disturbance. Later they pelted stones in which 6 got injured: DSP Kheda pic.twitter.com/EF05bPDKIc
— ANI (@ANI) October 4, 2022
ہم نے گاؤں میں پولیس فورس تعینات کر دی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ زخمی ہونے والوں میں موقع پر تعینات ایک ہوم گارڈ بھی شامل ہے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ گاؤں کے چوک میں اور پنڈال کے پیچھے ایک محلے سے اپروچ روڈ پر بھی پتھر پھینکنے کی اطلاع ملی جہاں نوراتری تہوار کے موقع پر گربا ڈانس کا اہتمام کیا گیا تھا
وڈودرا کےرورل پولیس افسر پی آر پٹیل کے مطابق وڈودرا کے ساولی قصبے میں مذہبی پرچموں کو لے کر ہنگامہ ہوا۔ساولی کی سبزی منڈی میں پتھراؤ کرنے والے تین درجن سے زائد افراد کو پکڑ لیا گیا ہے۔وڈودرا پولیس کے مطابق، ایک گروپ نے میلاد النبیؐ سے قبل بجلی کے کھمبوں پر مذہبی جھنڈے لگا ئے تھے۔یہاں قریب ہی ایک مندر بھی ہے۔
ہندو سماج کے لوگوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔تصادم اس وقت ہوا جب کچھ مقامی لوگ کمیونٹی کے دیگر افراد کو بتانے گئے کہ ان کے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔دونوں طرف سے بحث کے بعد پتھراؤ شروع ہو گیااس دوران یہاں کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
پولیس نے بتایا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ایک طرف سے 25 اور دوسری طرف سے 15 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔علاقہ میں سیکوریٹی بڑھا دی گئی ہے اور صورتحال فی الحال قابو میں ہے۔دونوں فریقوں کے درمیان ہنگامہ آرائی کے امکان کے پیش نظر فی الحال پولیس الرٹ موڈ پر ہے۔
موقع پر مناسب تعداد میں پولیس فورس کی تعیناتی کے ساتھ ہی علاقے میں معمول کی گشت بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس پارٹی نے علاقے میں فلیگ مارچ کا اہتمام کیا اور لوگوں کو خبردار کیا کہ اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔