نابالغ طالبہ کی عصمت دری۔اسکول انتظامیہ اور ٹیچرکے خلاف کارروائی

تازہ خبر
حیدرآباد : ۔26؍اکتوبر
(زین نیوز )
کہتے ہیں استاد کا مرتبہ باپ کے برابرہوتا ہے اور وہ اتنی محبت و شفقت کےساتھ بچوں کے ساتھ پیش آتا ہے‘  یہ استاد ہی ہے جو بچے کے مستقبل کی رہنمائی کرتا ہے اور صحیح اور غلط کا فرق سمجھا تا ہے۔
 دنیا میں جتنے بھی رشتے ہیں ان سب سے مقدس رشتہ استاد اور شاگرد کا ہی مانہ جاتا ہے استا در ہنما ہوتا ہے اور بچوں کی مٹی کے برتن کی طرح دیکھ بھال کر تا ہے ۔لیکن کچھ شیطان صفت استاد کی وجہ سے آئے دن اساتذہ کے ذریعہ طلبہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کی خبریں اخباروں کی زینت بن رہی ہیں

ایسے ہی ایک واقعہ میں تلنگانہ ریاست کے سنگار یڈی میں طالبہ کے ساتھ غیر اخلاقی کی حرکت میں ملوث ایک اسکول ٹیچر کو پولیس نے گرفتار کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا ہے۔

پولیس سنگاریڈی نے کرونا ہائی اسکول کے انتظامیہ اور ایک ٹیچر کے خلاف مقدمہ درج رجسٹرڈ کرکے بدکردار ٹیچر نیلسن کو گرفتار کرلیا۔نیلسن اش انگلش کا ٹیچر ہے جس پر 9 ویں جماعت کی نابالغ طالبہ پر تقریبا 5 1 دن سے جنسی زیادتی کا الزام ہے ۔اس کی زیادتی سے خوفزدہ طالبہ نے امتحانات میں شرکت سے گریز کیا ۔
 اطلاع پر والدین نے دریافت کیا تو اس نے بتا یا کہ نیلسن نامی ٹیچر کی جانب سے جنسی زیادتی کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے امتحان لکھنے سے خودکو دور رکھا۔
لڑکی کے والدین فوری حرکت میں آتے ہوئے اسکول انتظامیہ اور ٹیچر نیلسن کے خلاف سنگاریڈی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ جس کے بعد پولیس نے تفتیش کرتے ہوئے انتظامیہ اور متاثرہ لڑکی کے ہم جماعت سے پوچھ گچھ کی تفتیش میں پولیس کو پتہ چلا کہ لڑکی کے الزامات درست ہیں۔
طالب علموں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسکول کی انتظامیہ نے استاد کو کام جاری رکھنے کی اجازت دی تھی حالانکہ اس کا رویہ خراب تھا۔پولیس کو بتایا کہ ٹیچر کلاس روم میں بھی طالبہ کے ساتھ بدتمیزی کرتا تھا
جس پر پولیس نے نیلسن کے خلافPocso Act ( پروٹیکشن آف چلڈرن فرم سیکسول فینس کے تحت کیس درج کر تے ہوئےخاطی ٹیچر کو حراست میں لیکر جیل منتقل کیا ۔
اس کی اطلاع عام ہوتے ہی اسٹوڈنڈ فڈریشن آف انڈیا اور دیگر طلبہ تنظیموں کی جانب سے ڈی ای آفس سنگاریڈی کے رو برواحتجاج کرتے ہوئے کرونا اسکول کی شناخت کو برخواست کر نے اور نیلسن ٹیچر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرنے مطالبہ کیا جس پر ڈی ای اور میش نے مکمل تحقیقات کر تے ہوئے سخت کاروائی کرنے کا تیقن دیا۔