نئی دہلی:۔17؍نومبر
(زیڈاین ایم ایس)
تمل ناڈو کے پڈوکوٹائی گاؤں میں ایک خاندان پر ہجوم نے مندر میں چوری کے شبہ میں حملہ کر دیا۔ کارپاگمبیکا نامی ایک 10 سالہ بچی جو آٹو میں جا رہے اس خاندان پر حملے میں زخمی ہوئی تھی، فوت ہو گئی۔ واقعہ 14 نومبر کا ہے۔ اس کی ویڈیوز اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
ویڈیو میں ہجوم کو خاندان کے چھ افراد پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ خاندان کے ساتھ 10 سالہ کارپاگمبیکا کو بھی چوٹیں آئیں۔ زخمیوں کو پڈوکوٹائی کے سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
کرپاگمبیکا کی موت 16 نومبر کی شام کو ہوئی۔ پولیس نے بتایا کہ اس خاندان سے مندر کے سامان برآمد ہوئے ہیں۔
ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ایک گروہ کو تمل ناڈو کے پڈوکوٹائی ضلع میں کلینور ٹاؤن شپ کے قریب مذہبی مقامات کو لوٹتے ہوئے دیکھا گیا۔ جس کے بعد گاؤں والوں نے آٹو میں سوار ہوکر گاؤں سے باہر آنے والے لوگوں کو چور سمجھ کر ان کا پیچھا کرنا شروع کردیا۔
واٹس ایپ پیغامات بھیج کر بھیڑ کو اکٹھا کیا گیا۔ 20 کلومیٹر تک پیچھا کرنے کے بعد لوگوں نے آٹو کو روک دیا۔ اس کے بعد اندر بیٹھے لوگوں نے بری طرح پیٹنا شروع کر دیا، حالانکہ تب تک پولس پہنچ گئی تھی۔
لڑکی کی ماں للی پشپا نے گنیش نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خاندان دو ماہ قبل ایک آٹورکشا میں کئی مندروں میں جانے کے لیے کڈالور سے نکلا تھا۔
14 نومبر کو کیلانور کے قریب اس کی تین لوگوں سے لڑائی ہوئی۔ پشپا کے شوہر ستیہ نارائناسامی نے مداخلت کی تو ان لوگوں نے حملہ کردیا۔
پولیس نے بتایا کہ کڈالور کے رہنے والے ستیہ نارائناسامی اور اس کا خاندان ایک آٹو میں سفر کر رہے تھے۔ ان کے پاس سے گھنٹیاں اور پیتل کے سامان ضبط کر لیے گئے ہیں،
ستیہ نارائناسامی کے خلاف چوری سمیت کچھ معاملات پہلے ہی زیر التوا ہیں۔ اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا یہ سب مل کر چوری میں ملوث تھے۔تاہم، جس گاؤں میں حملہ ہوا وہاں کے رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ کسی بچوں پر حملہ نہیں کیا گیا۔