ریاست کے ساتھ کے سی آر کا تعلق بی آر ایس کی تشکیل کے ساتھ ختم: ٹی جیون ریڈی

تازہ خبر تلنگانہ
کے سی آر اور جے ڈی یو لیڈرمسٹر ایچ ڈی کمارسوامی کاخود غرضانہ سیاست اتحاد
حیدرآباد۔10 ؍دسمبر
(زین نیوز)
 بھارت راسٹرا سمیتی (بی آر ایس)کی تشکیل کو لے کر چیف منسٹر مسٹرکے چندر شیکھر راؤ پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس ایم ایل سی مسٹر ٹی جیون ریڈی نےکہا کہ اس نئے لبادہ کے ساتھ ریاست تلنگانہ  سے کے سی آر کا تعلق ختم ہوگیا۔آج یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مسٹرجیون ریڈی نے کہا کہ ریاست کو چیف منسٹر کے چنگل سے آزاد کرایا گیا ہے۔
کے سی آر اور جے ڈی یو لیڈرمسٹر ایچ ڈی کمارسوامی کے کرناٹک میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات مشترکہ طور پر لڑنے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دونوں قائدین کے اتحاد کو خود غرضانہ سیاست کا اتحاد قرار دیااورواضح کیا کہ یہ کانگریس ہی تھی جس نے جے ڈی یو لیڈر ایچ ڈی دیوے گوڑا کو وزیر اعظم اور ایچ ڈی کمار سوامی کو کرناٹک کا چیف مسٹر بنایا تھا۔
 کے سی آرکے’’اب کی بار کسان سرکار‘‘کے نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ  کے سی آر پر کوئی بھروسہ نہیں کرے گا  جنہوں نے زراعی شعبہ میں موجودہ سبسڈی کو ہٹا کر ریاست کے کسانوں کو دھوکہ دیاہے۔
 انہوں نے کہا کہ وہ  چیف منسٹر کو دودھ سے نہلانے کیلئے تیار ہیں اگر بعد میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے تلنگانہ میں زرعی شعبہ کو 24 گھنٹہ برقی فراہم کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ چیف منسٹر جنہوں نے گزشتہ آٹھ سالوں میں ریاست کو لوٹایا اب اپنی بی آر ایس پارٹی کے نام پر ملک کو لوٹنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
 انہوں نے چیف منسٹر سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسکیموں کو جاری رکھیں جو کہ غیر منقسم آندھرا پردیش ریاست میں موجود ہیں اور اس کے ساتھ ہی کسانوں کے قرض کی معافی کی اسکیم کو بھی نافذ کریں۔
سی بی آئی حکام کی طرف سے حکمراں بی آر ایس پارٹی ایم ایل سی کے کویتا کو سی آر پی سی کی دفعہ160کے تحت جاری کئے گئے نوٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے مسٹرجیون ریڈی نے مطالبہ کیا کہ سی بی آئی سی آر پی سی کی دفعہ41-Aکے تحت نوٹس جاری کرے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سنسنی خیز شراب گھوٹالہ میں سی بی آئی سست روی سے کام کر رہی ہے۔