ڈی جی پی اے سی پی اور کمشنر پولیس حیددآباد کا نام بھی زیر بحث
حکومت کے پاس پرنسپل سکریٹری محکمہ داخلہ روی گپتا کا نام بھی زیر غور
ڈی جی پی ایم مہندر ریڈی کی31؍دسمبر کو وظیفہ پر سبکدوشی
حیدرآباد۔24 ؍دسمبر
( فہیم الدین) اب یہ جاننا دلچسپ ہے کہ تلنگانہ کا نیا پولیس سربراہ کون ہوگا۔ اس حوالے سے پولیس حلقوں میں بحث جاری ہے۔معلوم ہوا ہے کہ موجودہ ڈی جی پی ایم مہیندر ریڈی 31؍دسمبرکو وظیف حسن خدمات پر سبکدوش ہو جائیں گے۔ ریاستی حکومت ان کی جگہ نیا ڈی جی پی کس کو مقرر کرے گی اس کا فیصلہ ایک ہفتہ میں ہو جائے گا۔
ایچ پی ایف(پولیس فورس کے سربراہ)ڈی جی پی کی دوڑ میں اے سی بی کے ڈی جی پی انجنی کمار، حیدرآباد کے پولیس کمشنر سی وی آنند اور ہوم سکریٹری روی گپتا کے نام نمایاں ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ دوڑ میں ان تینوں کے ساتھ ایک اور سینئر آئی پی ایس راجیورتن بھی ہیں۔ڈی جی پی ایم مہیندر ریڈی کے ساتھ سنیاریٹی کے حساب سے ڈی جی پی کے عہدے پر 1989کے آئی پی ایس بیاچ کے امیش شراف1990بیاچ کے انجنی کمار اور روی گپتا ہیں۔
ایک اور سینئر آئی پی ایس گووند سنگھ، جو سی آئی ڈی کے ڈی جی کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے گزشتہ ماہ ہی ریٹائر ہوئے۔ ان کی جگہ1991بیاچ کے راجیو رتن کو ڈی جی کا عہدہ دیا گیا ہے۔
تاہم، امیش شراف، جو سب سے سینئر ہیں، کی میعاد جون 2023 میں ختم ہوگی۔ پولیس کے حلقوں میں رائے ظاہر کی جا رہی ہے کہ چھ ماہ کے مختصر وقفہ کیلئے ان کو ڈی جی پی کے عہدہ پر فائز کیا جانا ماممکن ہے۔
دریں اثنا، اب تک یہ روایت رہی ہے کہ کمشنر پولیس حیدرآباد کے طور پر خدمات انجام دینے والوں ہی کوڈی جی پی کی حیثیت سے ترقی دی گئی ہے۔ ایسی ہی مثال تلنگانہ کے پہلے ڈی جی پی انوراگ شرما اور موجودہ ڈی جی پی ایم مہیندر ریڈی سے ملتی ہے۔ان دونوں نے کمشنر پولیس حیدرآباد کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور ڈی جی پی کے طور پر ترقی حاصل کی۔
اس حساب کے مطابق، ڈی جی پی کی دوڑ میں بنیادی طور پر کمشنر پولیس حیدرآباد کی حیثیت سے برسرکارسی وی آنند اس وقت ماضی میں جن ناموں کو سنا جا رہا تھا ان میں انجنی کمار کا نام بھی تھا۔ وہ اس عہدے پرگائز رہے ہیں۔
سی وی آنند کو ایکس کیڈر کوٹہ میں ترقی دی گئی؟ 1991بیاچ کے راجیو رتن کو گووند سنگھ کی جگہ ڈی جی کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے جو سی آئی ڈی کے ڈی جی کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے جو حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں
لیکن حکومت ڈی جی کا عہدہ تشکیل دے سکتی ہے اور اسی بیاچ سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو ایکسپیڈیٹر کوٹہ کے تحت ترقی دے سکتی ہے تاکہ وہی رتبہ ملے۔ اس طرح سی وی آنند کو ایڈیشنل ڈی جی کے عہدے سے ڈی جی کے عہدے پر ترقی دی جائے گی۔
دوسری صورت میں، اس بات کا امکان ہے کہ سی وی آنندو کو مہیندر ریڈی (جو 31؍دسمبرکو سبکدوش ہورہے ہیں)کی جگہ ڈی جی کے عہدہ ترقی دی جائے گی۔یسا لگتا ہے کہ روی گپتا کا نام بھی حکومت کے زیر غور ہے اور جو30سال کی سرویس مکمل کر چکے ہیں اور ایڈیشنل ڈی جی پی کے عہدے پر ہیں انہیں بھی ڈی جی پی کے عہدے پر تعینات کرنے کی اجازت ہے۔
اس کے مطابق 1992بیاچ کے جیتندر(فی الحال ایڈیشنل ڈی جی آف پیس اینڈ سیکیورٹی)کے بھی ڈی جی پی کی دوڑ میں کھڑے ہونے کا امکان ہے۔ امیش شراف (1989)، انجنی کمار (1990)، روی گپتا (1990)، راجیو رتن (1991) اور سی وی آنند (1991)کے نام پہلے ہییوپی ایس یسی سلیکشن کمیٹی کو بھیجے جاچکے ہیں۔
اگر مرکز ان میں سے تین کو شارٹ لسٹ کرتا ہے تو ان میں سے ایک کو ڈی جی پی کے طور پر منتخب کیا جائے گا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ پہلے کسی کو انچارج ڈی جی پی مقرر کرنے اور پھر کل وقتی ڈی جی پی کی تقرری کا امکان ہے۔