ملک میں نریندر مودی کی نہیں‘امبانی۔اڈانی کی حکومت ہے

تازہ خبر قومی
 ملک میں لوگوں میں بھائی چارہ ہے
 میڈیا چوبیس گھنٹے ہندو مسلم کے نام پر نفرت پھیلا رہا ہے۔راہول گاندھی
نئی دہلی:۔24؍دسمبر
(زین نیوز ڈیسک)
راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا دہلی میں ہے۔ یہاں ہفتہ کی شام انہوں نے لال قلعہ سے عوام سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا مرکزی حکومت کے کہنے پر کام کر رہا ہے۔
وہ چوبیس گھنٹے ہندو مسلم کے نام پر نفرت پھیلا رہا ہے، جبکہ ملک میں یہ حقیقت نہیں ہے۔ میں نے اس دورے میں دیکھا کہ ملک میں لوگوں میں بھائی چارہ ہے۔ سب ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔
اس میں میڈیا کا قصور نہیں، ان کے پیچھے طاقت ان کو کنٹرول کر رہی ہے۔ یہ سب ملک کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
راہول گاندھی نے سوال کیا کہ ملک میں نریندر مودی کی حکومت نہیں ہے، امبانی۔اڈانی کی حکومت ہے۔ 2800 کلومیٹر پیدل چل کر آیا ہوں، نفرت کہیں نہیں دیکھی۔ آج ملک کا نوجوان بے روزگار ہے۔
اس ملک کے نوجوانوں کو اگر کوئی روزگار فراہم کر سکتا ہے تو وہ ملک کے کسان اور چھوٹے تاجر ہیں۔ لیکن ملک کے بینکوں کے دروازے ان کے لیے بند ہیں۔
راہول گاندھی نے کہا، جب میں سیاست میں آیا تو میڈیا 24 گھنٹے راہل گاندھی، راہول گاندھی کرتا تھا۔ بی جے پی نے میری شبیہ خراب کرنے کے لیے ہزاروں کروڑ خرچ کیے، میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
 میں نے یہ بھی نہیں کہا کہ وہ غلط کہہ رہے ہیں۔ پورے میڈیا، واٹس ایپ، فیس بک نے میری تصویر کو خراب کرنا شروع کر دیا۔ لیکن حقیقت کو چھپانے کی کتنی بھی کوشش کی جائے، سچ کہیں نہ کہیں سے سامنے آتا ہے۔
خوف پھیلانے والی بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ میں نے گیتا اور اپنشد پڑھے ہیں۔ اس میں گلے ملنے کی بات ہے۔ یہ لوگ خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔
 کسانوں کے دلوں میں، نوجوانوں کے دلوں میں، چھوٹے تاجروں کے دلوں میں، ماؤں کے دلوں میں خوف۔ یہ لوگ چوبیس گھنٹے ملک میں خوف پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بھارت جوڑو یاترا بھارت کی طرح ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ میری یاترا میں کتے، گائے، بھینس اور سور سب آئے لیکن کسی کی جان نہیں گئی۔ ملک میں نفرت نہیں ہے۔ جیسا کہ ہندوستان ہے، ویسا ہی یہ سفر ہے۔ کبھی کوئی گر جاتا تو لوگ اسے ایک سیکنڈ میں اٹھا لیتے تھے۔ یہ ہندوستان ہے۔
راہول گاندھی اتوار کو اٹل سمادھی اور راج گھاٹ جائیں گے۔ہفتہ کواداکار کمل ہاسن، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی اور رابرٹ واڈرا نے بھی یاترا میں حصہ لیا۔
راہول گاندھی ہفتہ کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے مقبرے، راج گھاٹ، شکتی استھال، ویر بھومی اور وجے گھاٹ پر جانے والے تھے، لیکن تاخیر کی وجہ سے اب راہل اتوار کو ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے جائیں گے۔
یاترا کے دوران راہول گاندھی نے حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر چادر چڑھائی۔ قبل ازیں انہوں نے آشرم چوک پر واقع جیرام آشرم میں سیارام دربار کا دورہ کیا۔
دہلی کانگریس کے مطابق یہ یاترا 23 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی اور ہفتے کی شام دیر گئے لال قلعہ پر ختم ہوگی۔ اس کے بعد سفر میں 9 دن کا وقفہ ہوگا۔
بتا دیں کہ  راہول گاندھی نے کنیا کماری سے گزشتہ 107 دنوں میں تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہے۔ کانگریس کارکنوں کا ایک بڑا ہجوم راہول گاندھی کے دورہ پر پہنچ گیا ہے۔ اس کی وجہ سے دہلی پولیس نے دو درجن سے زیادہ مقامات پر ٹریفک کا رخ موڑ دیا ہے۔
وہیں، بدر پور سرحد سے لال قلعہ تک بھاری ٹریفک کا امکان ہے۔ راہول گاندھی نے دہلی میں کہاکہ میں نے آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگوں سے کہا ہے کہ ہم آپ کے نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے آئے ہیں۔
بی جے پی نے پوچھاکہ کیا پیار بھی خریدا اور بیچا جا سکتا ہے؟
راہول گاندھی کے اس بیان پر بی جے پی نے حملہ کیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان نلین کوہلی نے کہا کہ کانگریس نے اپنے دور اقتدار میں بہت زیادہ بدعنوانی کی ہے۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ خریدا اور بیچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا محبت بھی خریدی اور بیچی جا سکتی ہے؟
مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ مودی جی کی قیادت میں ملک محفوظ ہے۔ کانگریس کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا ہے۔ ٹکڑے۔ٹکڑے گینگ کے لوگ بھارت جوڑو یاترا میں گھوم رہے ہیں۔