وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھررائونے دیدار کیا اور جسد خاکی پر گلہائے عقیدت(چادرگل) پیش کیا
کل بعدنماز عصر ادائی گی جنازہ کے ساتھ سپرد لحد کیا جائے گا
حیدرآباد:۔17جنوری
(زین نیوز)
سابق ریاست حیدرآباد دکن کے آخری فرمانرواآصف سابع نواب میر عثمان علی خان بہادر کے پوتے اور پرنس آف برار میر حمایت علی خان اعظم جاہ بہادر و شہزادی درشہوار کے فرزند آصف جاہ ثامن نواب میر برکت علی خان صدیقی والاشان مکرم جاہ بہادر کے جسد خاکی کو آج ترکی کے استنبول شہر سے خصوصی چارٹرطیارہ کے ذریعہ شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ لایاگیا جہاں سے ایک ایمبولنس کے ذریعہ چومحلہ پیالیس خلوت مبارک منتقل کیاگیا۔
یہاں آصف جاہ ثامن کے جسد خاکی کو شاہی خاندان اور نظام ٹرسٹ کے ذمہ داروں کے دیدار کے لئے رکھا گیا۔میت کی منتقلی کے ساتھ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھررائو نے بڑے ادب و احترام کے ساتھ چومحلہ پیالیس پہنچ کر دیدار کیا اور جسد خاکی پر گلہائے عقیدت(چادرگل) پیش کئے۔
ان کے ہمراہ وزیر داخلہ الحاج محمد محمود علی‘ وزیر عمارات و شوارع مسٹر وی پرشانت ریڈی رکن راجیہ سبھا مسٹر جی سنتوش ‘‘ ٹی آرایسارکان اسمبلی مسٹر سنتوش ریڈی و بلکا سمن‘ چیرمین تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی الحاج محمد سلیم‘ چیرمین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ مسٹر مسیح اللہ خان‘ سرکاری مشیر برائے اقلیت حکومت تلنگانہ جناب اے کے خان اور دوسرے موجود تھے۔
چیف منسٹر نے دیدار کے بعددربار ہال میں بیگم آصف جاہ ثامن پرنسس اسریٰ ‘فرزند پرنس عظمت جاہ بہادر ‘ دختر پرنسس شیکیارکو پرسہ دیا اوران سے بات چیت کی۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ پرنس مکرم جاہ بہادر کا استنبول ترکی میں14جنوری کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق رات 10بجکر 50منٹ کے قریب انتقال ہوا تھا جو 90سال کے تھے۔
آصف جاہ ثامن کی وصیت کے مطابق ان کی جسد خاکی کو حیدرآباد منتقل کیاگیا تاکہ سلاطین دکن کے مقبرہ واقع تاریخی مکہ مسجد میں سپرد لحد کیا جاسکے۔ جس کی انہوںنے اپنی حیات مبارکہ میں خواہش ظاہر کی تھی۔ ریاستی حکومت نے پرنس مکرم جاہ بہادر کی تجہیز و تکفین اور تدفین کے اعلیٰ ترین سرکاری اعزازات کے ساتھ انتظامات کئے ہیں۔
چومحلہ پیالیس اور اس کے اطراف واکناف کے علاقوں کی گھیرا بندی کی گئی۔ چومحلہ پیالیس میں سکیورٹی کے وسیع تر انتظامات کئے گئے ہیں تاکہ آخری تاجدار دکن کے دیدار کے لئے عام وخاص سب کو موقع فراہم کیاجاسکے۔
چومحلہ پیالیس میں ایک طرف سے دیدار کے لئے داخلہ اور دوسری طرف سے واپسی کے انتظام کئے گئے۔ کل چہارشنبہ 18 جنوری کو صبح 8بجے سے دوپہر ایک بجے تک عوام کو آخری دیدار و دعائے مغفرت کاعوام(رعایا)کو موقع دیاجائے گا۔
دربار ہال میں ایک طرف سے داخل ہونے اور دوسری سمت سے باہر نکلنے کے انتظامات کئے گئے ہیں اسی طرح چومحلہ پیالیس میں دخول وخروج کے بھی الگ الگ انتظامات کئے گئے ہیں۔
کل بعد نماز ظہر احاطہ چومحلہ پیالیس میں غسل اور تجہیز و تکفین عمل میں لائی جائے گی۔جس کیلئے دربارہال سے متصل حصہ میں انتظام کیاگیا ہے ۔
اس کے بعد یعنی سہ پہر کے وقت جلوس جنازہ چومحلہ پیالیس سے مکہ مسجد کی سمت روانہ ہوگا۔ چونکہ نماز جنازہ اور جلوس جنازہ میں دکن کے مختلف علاقوں سے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کا امکان ہے اس لئے وسیع تر انتظامات کئے گئے ہیں۔ تاریخی مکہ مسجد میں نماز جنازہ کے لئے بھی حکومت نے خاطر خواہ انتظامات کئے ہیں۔
مصلیوں کی بھاری بھیڑ کو پیش نظر رکھتے ہوئے جنازہ کو تاریخی مکہ مسجد کے اندر منبر ومحراب کے پاس رکھا جائے گا ۔خطیب مکہ مسجد حافظ و قاری ڈاکٹر رضوان قریشی نماز جنازہ پڑھائیںگے اور دعائے مغفرت کریںگے۔ جس کی دی ایچ دی نظام اوقاف نے تحریری طور پر خواہش کی تھی ۔
مکرم جاہ بہادر جو ترکی کی خلافت عثمانیہ کے آخری خلیفہ سلطان عبدالمجید کے نواسے ہوتے ہیں ترکی میں رہنے کیباوجود دکن سے کافی محبت رکھتے تھے اور وہ سال میں ایک مرتبہ حیدرآباد کا دورہ کرکے مکہ مسجد میں اپنے فرزندان کے ہمراہ نماز جمعہ پابندی سے ادا کرتے تھے۔
پرنس مکرم جاہ بہادر کی آرامگاہ ان کے والد کے پہلو میں تیار کی گئی جنہیں کل بعدنماز عصر ادائی گی جنازہ کے ساتھ سپرد لحد کیا جائے گا۔ پرنس مکرم جاہ بہادر کے قوم و ملت پر کئی احسانات ہیں وہ ملک میں نہ ہوتے ہوئے بھی تعلیم اور صحت کے میدان میں ٹرسٹ کے ذریعہ انتظامات کرتے ہوئے اپنے اسلاف کے روایت کو زندہ رکھا۔
پرنس میر کرامت علی خان صدیقی مفخم جاہ بہادر نے اپنے برادر کے انتقال پر گہرے دکھ و صدمہ کااظہار کرتے ہوئے تعزیتی بیان میں مرحوم پرنس کی یادوں کو تازہ کیا ۔ وہ فی الوقت بھائی کی موت پرکافی ملول ہیں۔