یہ سرزمین مسلمانوں کی پہلی مادر وطن ہے۔اسلام تمام مذاہب میں قدیم ترین مذہب
حالیہ دنوں میں اسلامو فوبیا میں زبردست اضافہ۔ صدرمولانا محمود مدنی
نئی دہلی:۔11؍فروری
(نمائندہ خصوصی)
بی جے پی اور آر ایس ایس سے ہمارا کوئی مذہبی اختلاف نہیں ہے بلکہ نظریاتی اختلاف ہے۔ محمود مدنی نے کہا کہ ہندوتوا کا غلط ورژن پھیلایا جا رہا ہے اور ہندوتوا کی موجودہ شکل ہندوستان کی روح کے خلاف ہے۔ – ہندوستان اتنا ہی مدنی کا ہے جتنا مودی اور بھاگوت کاہے۔
ان خیالا ت کا اظہار جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود مدنی نے ہفتہ کو دہلی کے رام لیلا میدان میں جمعیۃ علماء ہندکے 34ویں اجلاس کیا ۔ واضح رہے کہ یہ سہ روزہ یہ اجلاس عاماتوار کے روز اختتام پذیر ہوگا۔
اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہاکہ ہم آر ایس ایس اور اس کے سربراہ سنگھ کو مدعو کرتے ہیں۔ آؤ باہمی تفریق اور دشمنی بھلا کر ایک دوسرے کو گلے لگائیں اور ملک کو دنیا کا طاقتور ترین ملک بنائیں۔ سناتن دھرم سے ہمیں کوئی شکایت نہیں، آپ کو بھی اسلام سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔
#WATCH | This land is the first homeland of Muslims. Saying that Islam is a religion that came from outside is totally wrong & baseless. Islam is the oldest religion among all religions. India is the best country for Hindi Muslims: Jamiat Ulema-e-Hind Chief Mahmood Madani (10.02) pic.twitter.com/hQ5YQhEeqh
— ANI (@ANI) February 11, 2023
جمعیت صدر نے کہاکہ ہندو اور مسلمان ہماری نظر میں برابر ہیں۔ ہم انسانوں میں فرق نہیں کرتے۔ جمعیت کی پالیسی رہی ہے کہ ہندوستان کے تمام شہری برابر ہیں، ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔
مدنی نے کہا کہ یہ سرزمین مسلمانوں کی پہلی مادر وطن ہے۔ یہ کہنا کہ اسلام ایک مذہب ہے جو باہر سے آیا ہے سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ اسلام تمام مذاہب میں قدیم ترین مذہب ہے۔
ہندوستان مسلمانوں کے لیے بہترین ملک ہے لیکن یہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسلامو فوبیا میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔۔ انہوں نے اقلیتوں کے خلاف ‘ نفرت انگیزی اور تشدد کو ہوا دینے والوں کے خلاف سزا کا مطالبہ کیا۔
جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ نے کہا کہ وہ زبردستی مذہب تبدیل کرنے کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جو لوگ اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کر رہے ہیں ان پر بھی جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور انہیں جیل بھیجا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم زبردستی مذہب کی تبدیلی کے خلاف ہیں۔ مذہب کی آزادی ایک بنیادی حق ہے۔ ہم زبردستی، دھوکہ دہی اور لالچ کے ذریعے تبدیلی کے خلاف بھی ہیں۔ ایجنسیوں کی طرف سے مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی بہت سی مثالیں ہیں، جیسے کہ نماز پر پابندی، ان پر پولیس ایکشن، اور بلڈوزر ایکشن۔”
مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ یکساں سول کوڈ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ملک کے مختلف سماجی گروہوں، برادریوں، ذاتوں اور تمام طبقات سے ہے۔
اپنی تقریر کے دوران محمود مدنی نے اعتراف کیا کہ پسماندہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور جمعیۃ علماء ہند ان مسلمانوں کے ریزرویشن کے لیے لڑے گی۔ انہوں نے پسماندوں کی ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں کی تعریف کی لیکن کہا کہ اس سمت میں مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔
یہ تاثر غلط ہے کہ ہندوستان میں مسلمان ایک بوجھ ہیں، پیغمبر اسلام کی توہین قابل قبول نہیں ہے۔ مسلمان کاریگر،اور بڑے کاروباری گھرانےمشکلات کے باوجود ہندوستان کی جی ڈی پی میں حصہ ڈال رہے ہیں
ہفتہ کو ہونے والے کنونشن میں شریک علماء نے اسلامو فوبیا، یکساں سول کوڈ، پرسنل لاء میں مداخلت، پسماندہ مسلمانوں کے لیے ریزرویشن، مدارس کے سروے، اسلام اور کشمیر کے خلاف غلط معلومات پر قراردادیں بھی منظور کیں۔
جمعیۃ علماء ہند کے مطابق یکساں سول کوڈ، مذہبی آزادی اور مسلم پرسنل لاء اور مدارس کی خود مختاری ان چند امور میں شامل ہیں جن پر کنونشن میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مزید، اس نے کہا کہ سماجی، اقتصادی طور پر پسماندہ مسلمانوں کے لیے ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے ایک تجویز لای جا سکتی ہے۔
جمعیت کے 34ویں اجلاس میں مذہبی بھائی چارے کو مضبوط کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور نفرت انگیز مہمات کو روکنے کے لیے اقدامات بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
جمعیت علماء ہند 100 سال پرانی تنظیم ہےجمعیت علماء ہند مسلمانوں کی 100 سال پرانی تنظیم ہے۔ یہ تنظیم مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔
مسلمانوں کے سیاسی، سماجی اور مذہبی مسائل اس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ یہ تنظیم اسلام سے وابستہ دیوبندی نظریے پر یقین رکھتی ہے۔جو مسلمانوں کے شہری، مذہبی، ثقافتی اور تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے