عام آدمی پارٹی ایم ایل اے پنجاب میں رشوت لیتے ہوئے گرفتار

تازہ خبر قومی
عام آدمی پارٹی ایم ایل اے پنجاب میں رشوت لیتے ہوئے گرفتار
 ویجیلنس عہدیداروں کی کارروائی
نئی دہلی:۔16؍فروری
(زیڈ این ایم ایس)
ویجیلنس نے پنجاب کے بھٹنڈہ سے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امیت رتن کوٹ فٹا کو 4 لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے پکڑ لیا ہے۔ کوٹ فٹہ بھٹنڈہ کے سرکٹ ہاؤس پہنچ چکا تھا۔
 ایم ایل اے کے پی اے ریشم سنگھ نے یہ رشوت گاؤں گڈا کی خاتون سرپنچ کے شوہر سے پنچایت بل پاس کرانے کے بدلے میں لی تھی۔
ویجیلنس ٹیم نے دونوں کو پکڑ کر اپنی تحویل میں لے لیا۔ ایم ایل اے کی گاڑی سے رقم برآمد ہوئی ہے۔سرپنچ نے شکایت کی تھیابتدائی معلومات کے مطابق گاؤں گھڈا کی سرپنچ سیما رانی کی پنچایت کی رقم اور گرانٹ پھنسا ہوا تھا۔
 جس کو لے کر ایم ایل اے کے پی اے ریشم سنگھ نے ان سے 4 لاکھ کی رشوت طلب کی تھی۔ قاعدے کے مطابق بلاک ڈیولپمنٹ پنچایت افسر اس رقم کو جاری کرتا تھا، لیکن ایم ایل اے کے مبینہ دباؤ کی وجہ سے وہ رقم نہیں دے رہا تھا۔ڈرائیور نے رشوت لی، ایم ایل اے وہاں موجود تھا
معلومات کے مطابق پی اے ریشم سنگھ نے رشوت کی رقم لی اور گاڑی میں رکھ دی۔ اس وقت ایم ایل اے کوٹ پھٹا گاڑی سے نیچے اترے اور کچھ لوگوں سے بات کر رہے تھے۔
 ویجیلنس نے ڈی ایس پی سندیپ سنگھ کی قیادت میں یہ کارروائی کی۔ گرفتاری کے دوران پی اے ریشم سنگھ نے فرار ہونے کی کوشش بھی کی۔ تاہم اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد ایم ایل اے کو بھی ٹیم نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ دونوں کو سرکٹ ہاؤس میں بٹھا کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
اس بارے میں سرپنچ سیما رانی کے شوہر پریت پال کمار نے بتایا کہ بی ڈی پی او آفس کے لوگ ہمیں 4 سال سے ہراساں کر رہے تھے۔ ہم نے انہیں کبھی کوئی حصہ نہیں دیا۔ اس کے بعد ہم نے بٹھنڈہ دیہی کے ایم ایل اے امیت رتن کوٹ فٹا کو بتایا۔
ہم نے کام تو کر لیا ہے لیکن رقم باقی ہے۔ ایم ایل اے کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ 25 لاکھ زیر التواء ہیں۔ یہ دیوالی سے پہلے کی بات ہے۔ اس پر ایم ایل اے نے پوچھا کہ آپ ہمیں کیا دیں گے؟ ہم نے کہا کہ ہم نے آج تک کسی کو پیسے نہیں دیے۔
ایم ایل اے نے کہا کہ ایسا نہیں ہے، رقم جاری کرنی ہے، کام کرنا ہے۔ گاؤں میں آپ کی عزت ہونی چاہیے۔ آپ جو چاہیں آگے کریں۔ میں نے کہا کہ پیسے کام پر خرچ کروں گا اور اپنی جیب سے تمہیں دوں گا۔
اس پر ایم ایل اے نے 5 لاکھ میں مکمل ادائیگی جاری کرنے کا سودا کیا۔ اس کے بعد انہیں پریشان کر کے 7-8 لاکھ کی ادائیگی کروا لی۔ اب جب ادائیگی آئی تو کہنے لگے ہمارے پیسے دو۔ جب ہم نے کہا کہ ہمیں ابھی تک پورے پیسے نہیں ملے ہیں تو کہنے لگے کہ کم از کم ابھی پیسے تو دیں۔ آج اس نے مجھ سے صرف پیسے لیے۔