خالصتان حامی امرت پال مفرور۔ مکتسر میں دفعہ 144 نافذ العمل
پنجاب میں موبائل انٹرنیٹ سروس 24 گھنٹے کے لیے معطل
نئی دہلی:۔18؍مارچ
(زیڈ این ایم ایس)
خالصتان کے حامی امرت پال کے 9 ساتھیوں کو پنجاب پولیس نے ہفتہ کو مختلف مقامات سے گرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاریاں اجنالہ تھانے پر حملے سے متعلق کیس میں کی گئیں۔ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ امرت پال کو گرفتار کرلیا گیا تاہم بعد میں آنے والی رپورٹس کے مطابق امرت پال مفرور ہے
امرت پال کے 6 ساتھی سنیچر کی دوپہر کو جالندھر سے موگا جاتے ہوئے پکڑے گئے۔ جیسے ہی پنجاب پولیس نے یہاں کا گھیراؤ کیا، امرت پال خود کار میں بیٹھ کر بھاگ گیا۔
پولیس کی تقریباً 100 گاڑیوں نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک اس کا پیچھا کرنے کے بعد جالندھر کے نکودر علاقے سے اسے پکڑ لیا۔ تاہم ان کی گرفتاری کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی۔ امرتسر میں اس کے کھیتوں سے 2 اور موگا سے ایک کو گرفتار کیا گیا۔
دریں اثناء صورتحال خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر پنجاب میں موبائل انٹرنیٹ سروس 24 گھنٹے کے لیے معطل کر دی گئی۔ ریاست میں موبائل انٹرنیٹ اور بلک ایس ایم ایس خدمات اتوار کی دوپہر 12 بجے تک معطل رہیں گی۔
دوسری جانب امرت پال کی گرفتاری کی اطلاع کے بعد موہالی میں احتجاج شروع ہوگیا۔ یہاں چندی گڑھ-موہالی بارڈر پر انصاف مورچہ میں موجود 150 کے قریب نہنگ ننگی تلواریں اور لاٹھیاں لے کر سڑک پر نکل آئے۔
یہ لوگ امرت پال کی رہائی کے نعرے لگاتے ہوئے چنڈی گڑھ کی طرف بڑھنے لگے اور جب روکا گیا تو ایئرپورٹ روڈ بلاک کر دیا۔ پنجاب پولیس کے جوانوں نے انہیں گھیر لیا۔
8 فروری 2023 کو چنڈی گڑھ-موہالی سرحد پر اس انصاف فرنٹ میں شامل نہنگوں اور پولیس کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا، جس میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
خالصتان نواز تنظیم ‘وارس پنجاب دے’ کے سربراہ امرت پال کے خلاف 3 مقدمات درج ہیں، جن میں سے 2 مقدمات امرتسر ضلع کے اجنالہ تھانے میں ہیں۔
اپنے ایک قریبی دوست کی گرفتاری سے ناراض امرت پال نے اپنے حامیوں کے ساتھ 23 فروری کو اجنالہ پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا۔ اس معاملے میں کوئی کارروائی نہ کرنے پر پنجاب پولیس کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ہفتہ کو امرت پال نے جالندھر۔موگا قومی شاہراہ پر شاہکوٹ-ملسیاں علاقے اور بھٹنڈہ ضلع کے رام پورہ پھول پر پروگراموں کا اہتمام کیا۔ شاہکوٹ ملسیاں کے علاقے میں ان کے پروگرام کے لیے صبح سے ہی حامی جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔
اس پروگرام سے پہلے بھی جالندھر اور موگا پولیس نے مشترکہ آپریشن میں امرت پال کو خفیہ طور پر گرفتار کرنے کی حکمت عملی بنائی تھی۔ اس کے لیے کئی قریبی اضلاع سے راتوں رات پولس فورس طلب کی گئی۔ جالندھر۔موگا قومی شاہراہ پر بھی صبح سے ہی بھاری ناکہ بندی کر دی گئی تھی۔
جیسے ہی امرت پال کا قافلہ ہفتہ کی دوپہر ایک بجے کے قریب جالندھر کے مہت پور شہر کے قریب پہنچا، پولیس نے گھیراؤ کر لیا۔ قافلے میں سب سے آگے چلنے والی 2 گاڑیوں میں سفر کرنے والے 6 افراد پکڑے گئے۔
امرت پال کی مرسڈیز کار قافلے میں تیسرے نمبر پر تھی۔ پولیس کو دیکھ کر اس کا ڈرائیور گاڑی کو لنک روڈ کی طرف موڑ کر بھاگ گیا۔ جالندھر اور موگا پولیس نے اس کا پیچھا کیا۔