حیدرآباد میں ایک بار پھر پوسٹرس کی جنگ شروع
فلائی اوور کے ستونوں پر پی ایم مودی کے پوسٹر لگائےگئے
حیدرآباد:۔28مارچ
(زین نیوزبیورو)

میں ایک بار پھر پوسٹرس کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔اب بی آر ایس لیڈروں نے فلائی اوور کے ستونوں پر نئے پوسٹر لگائے ہیں۔ آج وزیر اعظم مودی کے خلاف پوسٹر س نظر آئے۔ اپل-ناراپلی فلائی اوور کو شروع ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں اس کا کم از کم آدھا حصہ بھی مکمل نہیں ہو سکا ہے
اس پر تنقید کرتے ہوئے پوسٹر لگائے گئے کہ ’’مودی گارو کتنے سالوں میں یہ فلائی اوور بنائیں گے‘‘؟’ انہوں نے سوال کیا کہ ایلیویٹیڈ کوریڈور فلائی اوور کتنے سالوں میں مکمل ہو گا۔ پوسٹر میں کہا گیا ہے کہ اپل ناراپلی فلائی اوور کا 40 فیصد بھی پانچ سالوں میں مکمل نہیں ہوا ہے
۔ فلائی اوور کے ستونوں پر مودی کی تصویر لگا دی گئی اور کئی پوسٹروں میں تنقید کی گئی۔میڈی پلی پولیس اسٹیشن کے علاقے میں فلائی اوور کے ستونوں پر بھی نظر آتے ہیں۔ چھ کلومیٹر طویل ایلیویٹیڈ کوریڈور کے ستونوں پر ہر قدم پر مودی کے خلاف پوسٹر آویزاں دیکھائی دئے۔ان پوسٹروں پر وزیر اعظم مودی کی تصویر چھپی تھی اور انہوں نے پوسٹرز کو بہت تنقیدی انداز میں چسپاں کیا
اس فلائی اوور کے تمام ستونوں پر پوسٹر چسپاں تھے۔ وزیر کے ٹی آر نے اسی مسئلہ پر 27 مارچ کو ٹویٹر پر جواب دیا۔ انہوں نے شکایت کی کہ انہوں نے پانچ سالوں میں 35 فلائی اوور پروجیکٹ مکمل کیے ہیں اور مرکزی حکومت شہر میں دو فلائی اوور بھی نہیں بنا پائی ہے۔
انہوں نے شکایت کی کہ مرکز 2 فلائی اوور بھی نہیں بنا سکا۔ ماضی میں جب وزیر اعظم مودی نے تلنگانہ کا دورہ کیا تھا تو حیدرآباد میں ان کے خلاف کئی پوسٹر آویزاں کیے گئے تھے۔
Citizens of #Telangana question @narendramodi on the delayed construction of Uppal – Narapally Flyover undertaken by Central govt
The Flyover work started in 2018 & has been completed only 40% in 5yrs going at a snail pace inconveniencing the commuters traveling on that stretch… pic.twitter.com/Ncj980POyo
— Dinesh Chowdary (@dcstunner999) March 28, 2023
اپل ایلیویٹیڈ کوریڈور جسے تلنگانہ کا دوسرا سب سے طویل فلائی اوور کہا جاتا ہے پانچ سال بعد بھی نامکمل ہے۔ تاخیر کی وجہ سے مقامی لوگوں اور دیگر اضلاع سے اپل کے راستے شہر میں داخل ہونے والے مسافروں کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے۔
فلائی اوور پر کام 2018 میں 670 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع ہوا تھا، جس میں اراضی کے حصول کی لاگت بھی شامل تھی اور سمجھا جاتا تھا کہ اسے 18 ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔
۔ بی جے پی قائدین اس پر سخت اعتراض کررہے ہیں۔ پارٹی لیڈران اپنا غصہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بی جے پی کو بدنام کرنے کے لیے پوسٹر لگائے گئے۔
