گیان واپی پر مسلم فریق کی درخواست الہ آباد ہائی کورٹ نے مسترد کر دی

تازہ خبر قومی
گیان واپی پر مسلم فریق کی درخواست الہ آباد ہائی کورٹ نے مسترد کر دی
 پوجا کے حق کا مطالبہ کرنے والی ہندوؤں کی عرضی قابل سماعت۔ ہائی کورٹ 
پریاگ راج (الہ آباد) :۔31؍مئی
(زین نیوز ڈیسک)
گیان واپی کیمپس میں شرنگر گوری کی باقاعدہ پوجا کا معاملہ وارانسی کی عدالت میں جاری رہے گا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے بدھ کو اس کیس کے خلاف مسجد کمیٹی کی نظرثانی کی درخواست کو خارج کر دیا۔ وارانسی کی ضلعی عدالت بھی اس سے قبل مسلم فریق کی درخواست کو مسترد کر چکی ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ وارانسی کے گیانواپی کیمپس میں پوجا کے حق کا مطالبہ کرنے والی ہندوؤں کی عرضی قابل سماعت ہے۔۔ ہندو فریق نے گیان واپی مسجد کے احاطے میں شرینگر گوری اور دیگر دیوتاؤں کی باقاعدگی سے پوجا کرنے کی اجازت مانگی ہے۔
شرنگر گوری کی باقاعدہ پوجا کا مطالبہ 5 ہندو خواتین نے کیا تھا اور وارانسی کی عدالت میں عرضی دائر کی گئی تھی۔ مسلم فریق نے اس کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جس پر جسٹس جے جے منیر کی سنگل بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ بحث مکمل ہونے کے بعد عدالت نے 23 دسمبر 2022 کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
جسٹس جے جے منیر نے فریقین کے وکلا کو تفصیل سے سننے کے بعد یہ حکم دیا۔ ہندو فریق کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ ہری شنکر جین نے کہا، "مجھے امید ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ہم وہاں ایک عظیم الشان شیو مندر بنائیں گے اور موجودہ ڈھانچہ کو ہٹا دیا جائے گا۔” درخواست قابل سماعت نہیں ہے اور اسے خارج کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک کے تمام ہندوؤں کے لیے ایک نئی امید لے کر آئی ہے۔
ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے کہا، "یہ ایک بہت ہی تاریخی فیصلہ ہے، کیونکہ مسلم فریق نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کیس کو عبادت گاہوں کے قانون کی وجہ سے روکا گیا ہے۔ وارانسی کی سول عدالت نے 12 ستمبر کو ہمارے حق میں فیصلہ سنایا۔
یہی بات آج الہ آباد ہائی کورٹ میں جسٹس جے جے منیر نے کہی، جس میں انہوں نے کہا کہ نظرثانی کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے اورانجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے کہاکہ ہندو فریق متنازعہ جائیداد پر ماں شرنگر گوری، بھگوان گنیش اور بھگوان ہنومان کی پوجا کرنے کا حق مانگ رہا ہے۔ اس لیے سول کورٹ کو اس معاملے کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ درخواست گزار کا موقف تھا کہ 15 اگست 1947 سے 1993 تک یہاں باقاعدہ عبادت ہوتی تھی۔ جیسا کہ 1993 میں تنازعہ بڑھ گیا، ریاست اتر پردیش کے ضابطے کے تحت سال میں ایک بار عبادت کی اجازت دی گئی۔ اس لیے عبادت گاہوں (خصوصی دفعات) ایکٹ، 1991 کے تحت عبادت پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔
مسلم فریق نے دلیل دی کہ پوجاکرنے سے مذہبی نوعیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے گی۔ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل ایس ایف اے نقوی، ظہیر اصغر، فاطمہ انجم موجود تھے۔ ہندو فریق کی طرف سے ایڈوکیٹ ہری شنکر جین، وشنو جین، پردیپ شرما، سوربھ تیواری، پربھاش پانڈے، ونیت سنکلپ، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ایم سی چترویدی، چیف پرمننٹ ایڈوکیٹ بپن بہاری پانڈے نے دلائل دیے۔
مسلم فریق کے وکیل نقوی نے استدلال کیا کہ عبادت گاہوں کے ایکٹ کے ذریعہ باقاعدہ عبادت پر پابندی عائد کی گئی ہے کیونکہ عبادت اس جگہ کی مذہبی نوعیت کو متاثر کرے گی، جو قانونی طور پر نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے یہاں باقاعدہ عبادت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
سماعت ستمبر 2022 میں ہوئی تھی۔
اس معاملے میں وارانسی کی ضلعی عدالت نے 12 ستمبر 2022 کو 26 صفحات کا فیصلہ سنایا تھا۔ کہا گیا کہ یہ کیس پلیس آف ورشپ ایکٹ 1991 کے تحت نہیں آتا۔