صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کو ملاقات سے روک دیا گیا

تازہ خبر قومی
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کو ملاقات سے روک دیا گیا
نئی دہلی :۔30؍مئی
(زین نیوز ڈیسک)
صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو سے ملنے آئے راجیہ سبھا ممبرپارلیمنٹ دیپک پرکاش، آدتیہ ساہو اور سمیر اوراون کو راشڑپتی بھون کے گیٹ پر روک دیا گیا۔ گیٹ پر تعینات سیکوریٹی عہدیداروں نے ارکان پارلیمنٹ سے آئی کارڈز مانگے۔
ایم پی دیپک پرکاش کے پاس آئی کارڈ تھا، جبکہ ایم پی مسٹر ساہو اور مسٹر اوراون کے پاس کارڈ نہیں تھے۔ سیکوریٹی عہدیداروں نے ان دونوں ممبران پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ انہیں راشڑپتی بھون میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس پر رکن اسمبلی مسٹر پرکاش نے کہا کہ یہ غیر اخلاقی حرکت ہے۔
زبان درست نہیں ہے۔ اندر وصول کنندگان کی فہرست ہے، ان سے ملائیں۔ یہاں سیکوریٹی عہدیداروں نے کہا کہ ہم آپ کو نہیں پہچانتے۔ اگر آپ اپنا آئی کارڈ دکھاتے ہیں تو آپ کو جانے کی اجازت ہوگی۔
 ملاقات کرنے والوں کی فہرست میں دونوں ارکان پارلیمنٹ کے نام تھے۔ فہرست کی مطابقت کے بعد انہیں اندر جانے دیا گیا۔ اس پورے واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے ایم پی سمیر اوراون نے کہا ہے کہ جھارکھنڈ کی پولیس باہر تھی۔ جھارکھنڈ پولیس کچھ بھی کر سکتی ہے۔
ان کا پروٹوکول اور امن و امان سے کوئی تعلق نہیں۔ مسٹر اوراون نے کہا کہ ہم سے آئی کارڈ مانگا گیا تھا۔ کوئی بھی ہمیشہ شناختی کارڈ لے کر نہیں چلتا۔ گیٹ پر کوئی پروٹوکول آفیسر نہیں تھا۔
 ہم ملے بغیر جانے لگے۔ اندر کی فہرست کو ملانے کے بعد ہم اندر چلے گئے۔ مسٹر اوراون نے کہا کہ جھارکھنڈ پولیس غلط جذبات کے ساتھ کام کرتی ہے۔