ممبئی: ہاؤزنگ سوسائٹی میں بکرے لانے پر سینکڑوں ممبران اور ہندو تنظیموں کا احتجاج
ہنومان چالیسہ اورجئے شری رام کے نعرے، ویڈیو وائرل
تھانے:۔28؍جون
( زین نیوز ڈیسک)
مسلمانوں کے لئے عیدالاضحی کے موقع پر اب بکرے لانا بھی جرم بن گیا ہے مہاراشر کی دارالحکومت میں ہندو تنظیمو ں اور فرقہ پرست ذہنیت کے حامل لوگوں کی جانب سے ایک شخص کو اپنے گھر بکرا لانے پر احتجاج اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
تھانے پولیس نے آج بتایا کہ مہاراشٹر کے تھانے ضلع میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشیوں کے ایک حصے نےعیدالاضحی سے پہلے ایک شخص کو اپنے گھر میں بکرے لانے پر اعتراض کرتے ہوے احتجاج کیا۔
منگل کی شام اس واقعہ کے بعد پولیس کو بھائیندر علاقے میں واقع ہاؤسنگ سوسائٹی میں بلایا گیا۔مسلم خاندان کا کہنا تھا کہ بکروں کی قربانی سوسائٹی کے احاطے میں نہیں کی جائے گی۔ "ہمیں ہر سال بکریاںلاتے ہیں۔ لیکن ہم انہیں سوسائٹی میں کبھی قربان نہیں کرتے ہیں
اس دوران موقع پر پہنچی پولیس نے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ پولیس نے سوسائٹی کے دیگر مکینوں کو یقین دلایا کہ سوسائٹی کے احاطے میں کوئی ذبح نہیں کیا جائے گا۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ پولیس نے یہ کہتے ہوئے بکروں کو اجازت دی ہے کہ کسی آدمی کے گھر میں بکرے یا جانور لانے کے خلاف ایسا کوئی اصول یا قانون نہیں ہے۔
मुंबई. मीरारोड सोसायटी में बकरा लाने पर लोग भड़क गए और हनुमान चालीसा का पाठ करने लगे… pic.twitter.com/I594X5Gy2Q
— Kavish Aziz (@azizkavish) June 28, 2023
میرا روڈ پولیس اسٹیشن کے ایک اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ انہوں نے رہائشیوں کے ساتھ بات چیت کی اور انہیں پرسکون کیا۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی خبر کے مطابق جے پی انفرا ہاؤسنگ سوسائٹی میں اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا تھا جب محسن شیخ نامی ایک رہائشی عید الاضحی کے لیے گھر بکرے لے کر جا رہا تھے ۔ جیسے ہی وہ بکریاں لے کر لفٹ سے باہر نکلے تو یہ واقعہ لفٹ کے قریب نصب کیمرے میں قید ہوگیا۔
ویڈیو منظر عام پر آتے ہی ہندو تنظیموں اور سوسائٹی سینکڑوں ممبران نے جئے شری رام” کا نعرہ لگاتے ہوئے ‘ اور ہنومان چالیسہ پڑھتے ہوئےچیختےاس شخص کو کو بکرے کو اس کے گھر لے جانے سے روکتے رہے۔سوسائٹی کے سینکڑوں ممبران کی پولیس کے ساتھ میرا روڈ، ممبئی میں "جئے شری رام” کا نعرہ لگانے کے دوران جھڑپ ہوئی
اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئی جس میں کچھ لوگ شور مچاتے ہوئے اور اس شخص کو بکرے کو اپنے گھر لے جانے سے روکتے ہوئے دیکھا گیا۔
پولیس عہدیدار نے بتایا کہ یہ شخص ہر سال عیدلاضحی سے پہلے اپنے گھر بکرے لانے کے طریقہ کار کے بارے میں پولیس کو پہلے ہی مطلع کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس اسے رکھنے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے۔
عہدیدار نے واضح کیاکہ آدمی اگلے دن بکرے کو لے جاتا ہے اور جانور کو اس کی رہائش گاہ پر ذبح نہیں کیا جاتا ہےانہوں نے کہا کہ اب اس آدمی کو کہا گیا ہے کہ وہ پولیس کی موجودگی میں جانور کو اپنے گھر سے باہر لے جائے۔عہدیدار نے بتایا کہ اس سلسلے میں کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی جرم درج کیا گیا ہے۔
محسن خان اور انکی اہلیہ کا کہنا تھا "اگر بکریوں کو ہاؤسنگ کالونی کے اندر لانا خلاف قانون تھا، تو انہیں ہمارے خلاف پولیس میں شکایت درج کرانی چاہیے تھی۔ ہمارے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع ہونے والے ہجوم کی طرف سے ہم پر حملہ کیا گیا، چھیڑ چھاڑ کی گئی اور ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا
