راہول گاندھی کے خلاف ٹویٹ کرنا بی جے پی لیڈر امیت مالویہ کو مہنگا پڑ گیا، ایف آئی آر درج
نئی دہلی:۔28؍جون
(زین نیو ز ڈیسک)
کانگریس کے سابق قومی صدر راہول گاندھی کے خلاف ٹویٹ کرنے پر بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ کانگریس کے سابق ایم ایل سی رمیش بابو کی شکایت پر بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ آئی پی سی کی دفعہ 153A، 120B، 505(2)، 34کے تحت بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ کے خلاف بنگلورو کے ہائی گراؤنڈ پی ایس میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
کرناٹک کے آئی ٹی وزیر پرینک کھرگے نے بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ کے خلاف درج ایف آئی آر پر کہاکہ جب بھی بی جے پی کو قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ روتے ہیں۔

انہیں ملک کے قانون پر عمل کرنے میں مسئلہ ہے اور اگر ہم اس قانون پر عمل کریں تو انہیں اس میں بھی مسئلہ ہے۔ بی جے پی کو بتانا چاہیے کہ ایف آئی آر کا کون سا حصہ بدنیتی کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔ ہم نے یہ قانونی رائے لینے کے بعد کیا ہے۔
اس ویڈیو کو بنانے اور جھوٹ پھیلانے والا کون ہے؟ ایف آئی آر درج ہونے میں ایک ہفتہ لگا ہے۔ اگر انہیں کوئی مسئلہ ہے تو وہ عدالت میں جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرناٹک حکومت اپنے اس موقف پر قائم رہے گی کہ بی جے پی کے دور میں ہوئے گھوٹالوں کی جانچ کی جائے گی۔
غور طلب بات یہ ہے کہ گزشتہ سال 6 ستمبر کو راہول گاندھی نے کسان مہاپنچایت کو لے کر ایک ٹویٹ کیا تھا۔ جس میں انہوں نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، داتا ہے، بے خوف ہے، ادھار ہے، بھارت بھاگیہ ودھاتا۔
راہول گاندھی کے اس ٹویٹ پر بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے ٹویٹ کیا۔ جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ راہول گاندھی نے جو تصویر شیئر کی ہے وہ بہت پرانی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ راہول گاندھی کو کسان مہاپنچایت کے لیے پرانی تصویر کا استعمال کیا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ کسان تحریک کے نام پر پھیلایا گیا پروپیگنڈہ کام نہیں کر رہا۔
