پاکستان ورلڈ کپ سے دستبردار ہو جائے گا۔ پاکستانی وزیر اسپورٹس کا بی سی سی آئی کو انتباہ

تازہ خبر کھیل
پاکستان ورلڈ کپ سے دستبردار ہو جائے گا۔ پاکستانی وزیر اسپورٹس کا بی سی سی آئی کو انتباہ
نئی دہلی:۔9؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)
ہندوستان میں 5 اکتوبر سے شروع ہونے والے ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ پاکستان کے وزیر کھیل احسان مزاری نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان ایشیا کپ کا میچ نیوٹرل مقام پر کھیلنے کا مطالبہ ترک کر دے ورنہ ہم بھی ورلڈ کپ کھیلنے ہندوستان نہیں جائیں گے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 27 جون کو ہونے والے ورلڈ کپ کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ پاکستان اورہندوستان کے درمیان ہائی وولٹیج میچ 15 اکتوبر کو احمد آباد میں کھیلا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو اپنی لیگ کے 8 میچز چار شہروں حیدرآباد، بنگلورو، چنئی اور کولکتہ میں کھیلنے ہیں۔
احسان مزاری نے انڈین ایکسپریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا – وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں 14 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس میں میرے ساتھ کل 11 وزیر ہیں۔
ہم اس معاملے پر بات کریں گے کہ پاکستان کو ہندوستان میں کرکٹ کھیلنی چاہیے یا نہیں۔ ہم اپنی سفارش وزیر اعظم کو بھیجیں گے۔ اسی بنیاد پر پاکستان کرکٹ ٹیم کو ورلڈ کپ میں بھیجنے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔
پی سی بی میرے محکمے میں آتا ہے۔ میری رائے میںہندوستان کو بھی ایشیا کپ کے میچز نیوٹرل مقامات پر کھیلنے کا مطالبہ ترک کر دینا چاہیے، ورنہ ہم پاکستان سے ورلڈ کپ کے میچزہندوستان کے بجائے نیوٹرل مقامات پر کرانے کا مطالبہ بھی کریں گے۔
وزیر کھیل احسان مزاری کے علاوہ کئی وزرا اور پاکستان کے سیکوریٹی اداروں کے سربراہان شامل ہیں۔ حکومت پاکستان میں شامل دیگر جماعتوں کے نمائندے بھی کمیٹی میں شریک ہوں گے۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو اس کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھٹو ملک کے اگلے وزیر اعظم کے امیدوار بھی ہو سکتے ہیں۔
ابھی تک اس بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے کہ کمیٹی تحقیقات کے لیے کب بھارت آئے گی۔ تاہم کمیٹی کی تحقیقات کے بعد ہی اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنےہندوستان آئے گی یا نہیں۔
ایشین کرکٹ کونسل نے ورلڈ کپ سے قبل ایشیا کپ سری لنکا اور پاکستان میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت پاکستان میں ٹورنامنٹ کے صرف 4 میچز ہوں گے۔ بقیہ 9 میچز سری لنکا میں ہوں گے۔
گروپ مرحلے کے چار میچز پاکستان میں ہوں گے۔ ان میں ایک گروپ سے پاکستان بمقابلہ نیپال اور دوسرے گروپ سے افغانستان بمقابلہ بنگلہ دیش، افغانستان بمقابلہ سری لنکا اور بنگلہ دیش بمقابلہ سری لنکا کے میچز شامل ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ بھارت کا پاکستان میں ایک بھی میچ نہیں ہوگا۔ اگر ٹیم انڈیا فائنل میں پہنچتی ہے تو یہ میچ بھی سری لنکا میں کھیلا جائے گا۔31 اگست سے 17 ستمبر تک ہونے والے اس ٹورنامنٹ کا مکمل شیڈول ابھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔