گیان واپی مسجد معاملہ: آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سروے کی اجازت
وارانسی کی عدالت کا فیصلہ
وارانسی:۔21؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)
وارانسی کی عدالت نے گیان واپی مسجد معاملے میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سروے کی اجازت دے دی ہے تاہم عدالت نے کہا کہ وضوخانہ کو اسے سروے کے دائرے سے باہر رکھا جانا چاہیے۔
عدالت ہندو فریق کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی جس میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے ذریعہ پورے گیان واپی مسجد کے احاطے کا سائنسی سروے کرنے کی ہدایت مانگی گئی تھی۔ عدالت نے 14 جولائی کو اس معاملے پر دلائل مکمل کر لیے۔۔ اس معاملے میں ڈسٹرکٹ جج کی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اب جمعہ 21 جولائی کو عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
عدالت نےآرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو 4 اگست تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سروے میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی ٹیم پورے کیمپس کا سروے کرے گی۔ اس میں صرف وضو خانہ کا علاقہ شامل نہیں ہے۔ کیونکہ عدالت کے حکم کے بعد اسے سیل کر دیا گیا ہے۔
ہندو فریق کی ریکھا پاٹھک، منجو ویاس، لکشمی دیوی اور سیتا ساہو نے 16 مئی کو اے ایس آئی کو گیان واپی کا ریڈار سروے کرنے کی درخواست دی تھی۔ اس میں سیل شدہ وضو خانہ علاقہ شامل نہیں تھا۔ 19 مئی کو انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے اس پر اعتراض کیا۔ اس کے بعد ہندو فریق نے 22 مئی کو اپنے دلائل پیش کئے۔
اس کے بعد 12 جولائی کو ہندو فریق نے درخواست کو نمٹانے کے لیے درخواست دی۔ اس کے بعد مسجد کمیٹی نے اعتراض کے لیے وقت مانگا اور سماعت کے لیے 14 جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی۔ جمعہ کو مسجد کمیٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ ممتاز احمد، رئیس احمد اور اخلاق احمد نے دلائل پیش کئے۔
دوسری جانب ریاستی حکومت کی جانب سے وکیل سدھیر ترپاٹھی، سبھاش نندن چترویدی، انوپم دویدی، راجیش مشرا اور مرکزی حکومت کی جانب سے امیت سریواستو نے ہندو فریق کی جانب سے دلائل پیش کیے۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد ضلعی جج نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
درخواست گزاروں نے ’ہر ہر مہادیو‘ کے نعرے لگائے۔دوسری جانب اس فیصلے کے بعد درخواست گزار خواتین نے سروے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بعد ہر ہر مہادیو کے نعرے لگائے۔ خواتین کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے سروے کرانے کا فیصلہ ملنا بہت ضروری ہے۔
مسجد کمیٹی کے جوائنٹ سکریٹری مولانا یاسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ن واپی مسجد کمیٹی نےاس فیصلے پر اختلاف ظاہر کیا اور کہا کہ وہ اگلے ہفتہ الہ آباد ہائی کورٹ میں جائیں گے۔
ضلعی عدالت کا فیصلہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ہمارے دلائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ہم اگلے ہفتہ الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کریں گے
مسلم فریق نے ہندو فریق کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ لارڈ آدی وشویشور مندر پر ایک مسلمان حملہ آور نے حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا تھا اور راجہ ٹونڈل مال نے 1580 عیسوی میں اسی جگہ پر مندر کو بحال کیا تھا۔مسجد کمیٹی نے کہاکہ نہ تو مغل شہنشاہ اورنگ زیب ظالم تھا اور نہ ہی اس نے وارانسی میں کسی بھگوان آدی وشویشور مندر کو منہدم کیا۔
کمیٹی نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا کہ گیانواپی مسجد کے احاطے میں گزشتہ سال کوئی شیولنگ نہیں ملا تھا اور یہ چیز دراصل ایک فووارہ ہے۔
مسلم فریق کا موقف ہے کہ یہ اعتراض ‘وضوخانہ حوض میں پانی کے چشمے کے طریقہ کار کا حصہ تھا جہاں نمازی نماز پڑھنے سے پہلے وضو کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے 19 مئی کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) سے کہا کہ وہ اس معاملے پر اگلی سماعت تک وضوخانہ کی کاربن ڈیٹنگ نہ کرے۔
